
از: سہیل شہریار
ملک میں محصولات کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانےکے لئے وسیع تر حکمت عملی کے تحت وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سالکے لئے محصولات میں اصلاحات کے پانچ سالہ پلان2025تا2030کے دوسرے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ جس سے صنعتی شعبے کو درآمدی ڈیوٹیوں کی مد میں تقریباً 200 ارب روپے کی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
حکومتی منصوبہ بندی جس کا مقصد ملکی صنعتوں کے لئے ان پٹ لاگت کو کم کرنا، مسابقت کو بہتر بنانا، اور صنعتی توسیع کو سپورٹ کرنا ہے۔ حکومت نے 3,149 ٹیرف لائنوں پر اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) کو کم کرنے اور آئندہ 1900 سے زائد ٹیرف لائنوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو 20 فیصد تک کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق کچھ شعبوں بشمول آٹوموبائل اور بیٹریوں پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی دونوں میں بڑی کمی متوقع ہےمنصوبے کے تحت، آٹوموبائل، آئرن اینڈ اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکلز اور پلاسٹک جیسی صنعتیں جو فی الحال 100فیصد سے 150فیصد تک ادائیگی کر رہے ہیں۔ ان شرحوں کو 50سے 70فیصدتک کم کیا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کابینہ کے اراکین اور ان شعبوں سے وابستہ اراکین پارلیمنٹ کے دباؤ کے باوجود اصلاحات کا ایجنڈا آگے بڑھے گا جو ممکنہ طور پر ٹیرف اصلاحات کے اقدامات سے متاثر ہوں گے۔حکومت کو توقع ہے کہ محصولات میں اصلاحات سے پانچ سالہ مدت کے اختتام تک برآمدات میں تقریباً 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔ جس سےعالمی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
اس سے قبل اصلاحات کےپہلے مرحلے میں حکومت پہلے ہیکئی شعبوں پر اضافی کسٹم ڈیوٹیوں کو ختم کرکے یا ان کی شرحوں کو کم کرکے اور زیادہ سے زیادہ ریگولیٹری ڈیوٹی کو 50 فیصد تک کم کرکے صنعتوں کو 200 سے 250 ارب روپے کا ریلیف فراہم کر چکی ہے۔وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر متعلقہ وزارت کو ان اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنے کی ہدایت کی ہے۔ جن کا اعلان بجٹ2026-27 میں کیا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں حکومت 15فیصد ٹیرف سلیب کے تحت 518 ٹیرف لائنوں پر باقی2فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی کو ختم کرے گی۔ اسی طرح 20فیصد سلیب کے تحت 2,166 لائنوں پر 4سے کم کر کے 2فیصد کر دی جائےگی، اور 465 کسٹم لائنوں پر اس وقت 6فیصد سے 4فیصدکی جا رہی ہے۔
حکومت نے آئندہ بجٹ میں 1,948 ٹیرف لائنوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو 50 فیصد سے کم کرکے زیادہ سے زیادہ 20 فیصد کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دی ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹی میں اوسطاً 20فیصدکمی حالیہ دوسرے مرحلے میں تمام مصنوعات پر لاگو ہوگی۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں 20 فیصد سے اوپر کی تمام ٹیرف لائنوں پر کسٹم ڈیوٹی (سی ڈی) کو 20 اور 50 فیصد کے درمیان کم کیاجائے۔ اس میں گاڑیاں اور الکوحل مشروبات جیسے شعبے شامل ہیں جن پر پہلے 100 فیصد تک کی شرح لاگو تھی۔
منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت 2026-27کے مالی سال کے لیے سادہ اوسط ٹیرف کا ہدف 13فیصد مقرر کیا گیا ہے۔اسے رواں سال پہلے مرحلے میں 20.2فیصدسے 15.65فیصدتک کم کیا گیا تھا۔
مزید براں کسٹمز کے 5ویں شیڈول میں جو صنعت کے لیے مخصوص ٹیرف رعایتیں فراہم کرتا ہے مزید کمی تجویز کی گئی ہے۔ اس کے تحت فی الحال اصلاحات کے دوسرے مرحلے کے دوران زیادہ تر مصنوعات پہلے شیڈول میں منتقل ہو جائیں گی۔جس کا مطلب ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں مخصوص مصنوعات پر چھوٹ واپس لے لے گی۔البتہ آئندہ بجٹ میں دواسازی کی مصنوعات اور آلات پر ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔












