بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے اپنے تیز رفتار خلائی پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے چند روز میں کئی راکٹ لانچ کیے، تاہم بدھ کے روز Kuaizhou-11 راکٹ کی پرواز کے بعد طویل خاموشی نے ممکنہ تکنیکی مسئلے کے خدشات پیدا کر دیئے۔
Kuaizhou-11 ٹھوس ایندھن سے چلنے والا راکٹ مقامی وقت کے مطابق رات 11:40 بجے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے روانہ ہوا۔ اگرچہ چینی سوشل میڈیا پر لانچ کی تصدیق کی گئی، لیکن کئی گھنٹوں تک سرکاری سطح پر مشن کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
عام طور پر چینی خلائی پروگرام میں ایسی خاموشی کسی لانچ کی ناکامی یا سیٹلائٹس میں خرابی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم بعد ازاں امریکی خلائی فورس نے Kuaizhou-11 کے راکٹ باڈی کو مدار میں ٹریک کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ راکٹ کم از کم ابتدائی طور پر مدار تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ البتہ اس کے ساتھ لے جائے گئے سیٹلائٹس کی صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔
Kuaizhou-11 کے فوراً بعد چین نے Long March 12 راکٹ کے ذریعے اپنے قومی براڈبینڈ منصوبے Guowang کے مزید سیٹلائٹس کامیابی سے مدار میں بھیج دیئے۔
چینی خلائی ادارے CASC کے مطابق یہ Guowang سیٹلائٹ نیٹ ورک کا 22واں گروپ تھا۔ گزشتہ چار لانچز میں ہر مرتبہ 9 سیٹلائٹس بھیجے گئے تھے، جس کے بعد اندازاً Guowang پروگرام کے 177 سیٹلائٹس اب مدار میں موجود ہیں۔ مستقبل میں اس نیٹ ورک کو 13 ہزار سیٹلائٹس تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
16 جون کو Long March 3B راکٹ کے ذریعے Shijian-31 سیٹلائٹ بھی لانچ کیا گیا۔ چینی حکام کے مطابق اس سیٹلائٹ کا بنیادی مقصد خلائی ماحول کا مطالعہ کرنا ہے، تاہم Shijian سیریز کے بارے میں عموماً محدود معلومات جاری کی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ سیٹلائٹس اکثر تجرباتی اور نئی خلائی ٹیکنالوجیز کے مظاہرے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
Kinetica-1 نے Jilin-1 سیٹلائٹس مدار میں پہنچا دیئے؎
14 جون کو نجی چینی کمپنی CAS Space کے Kinetica-1 راکٹ نے بھی کامیاب پرواز کرتے ہوئے Jilin-1 ریموٹ سینسنگ سیریز کے آٹھ سیٹلائٹس مدار میں پہنچائے۔
ان میں سے ایک سیٹلائٹ Wenwu-01 تاریخی اور ثقافتی ورثے کی نگرانی کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ دیگر جدید مصنوعی ذہانت (AI) اور ہائی ریزولوشن تصویری صلاحیتوں سے لیس ہیں۔
ان لانچز کے بعد 2026 کے دوران چین کے خلائی مشنز کی تعداد 43 تک پہنچ گئی ہے، جن میں تین ناکامیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ Kuaizhou-11 کی حتمی حیثیت ابھی غیر واضح ہے۔












