بیجنگ ( پاک ترک نیوز) ٹیکنالوجی کی سپر پاور بننے کی جنگ میں چین نے ایک اور بڑا معرکہ سر کر لیا۔چین نے جدید کمپیوٹنگ کے میدان میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی تازہ عالمی درجہ بندی کے مطابق چینی سپر کمپیوٹر لائن شائن دنیا کا سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر بن گیا۔اس سپر کمپیوٹر کو ہواوے چپس اور مقامی طور پر تیار کردہ نیٹ ورکنگ آلات اور سافٹ وئیر کے ذریعے تیار کیا گیا۔
جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جاری ہونے والی عالمی شہرت یافتہ ٹاپ 500 فہرست کے مطابق چین کا لائن شائن سپر کمپیوٹر امریکی سپر کمپیوٹر ایل کیپیٹن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن پر آ گیا ۔یہ سپر کمپیوٹر 42 میگا واٹس بجلی استعمال کرتا ہے جو امریکی کمپیوٹر سے 40 فیصد زیادہ ہے۔
شین ژین کے نیشنل سپر کمپیوٹنگ سینٹر میں نصب لائن شائن نے 2.198 ایکسا فلوپس کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو فی سیکنڈ دو کوئنٹیلین سے زائد حسابات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کارکردگی امریکی ایل کیپیٹن کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہے۔
یہ رفتار امریکا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر "ایل کیپیٹن” سے تقریباً بیس فیصد زیادہ ہے، جو گزشتہ کئی ماہ سے دنیا کے تیز ترین کمپیوٹر کا اعزاز اپنے نام کیے ہوئے تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2017 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی چینی سپر کمپیوٹر نے عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس سے قبل چین کے "سن وے تائی ہو لائٹ” نے دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی 50قیمتی کمپنیاں کون سی ہیں؟
امریکا کا ایل کیپیٹن، جو کیلیفورنیا میں واقع لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں نصب ہے، نومبر 2024 سے دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب اسے دوسرے نمبر پر آنا پڑا ہے۔
دوسری جانب امریکا کا "ایل کیپیٹن” اب دوسرے نمبر پر چلا گیا ہے جبکہ امریکی سپر کمپیوٹر "فرنٹیئر” تیسرے، "اورورا” چوتھے اور جرمنی کا "جوپیٹر” پانچویں نمبر پر موجود ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین اس پیش رفت کو امریکا اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجیکل کولڈ وار کا اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔
واشنگٹن نے گزشتہ چند برسوں کے دوران چین پر جدید چپس اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کی برآمدات پر متعدد پابندیاں عائد کیں، لیکن اس کے باوجود چین نے سپر کمپیوٹنگ کی دوڑ میں غیر معمولی کامیابی حاصل کر لی۔
ماہرین کے مطابق سپر کمپیوٹرز کی یہ جنگ صرف رفتار کی جنگ نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقت، مصنوعی ذہانت، اقتصادی برتری اور قومی سلامتی کی جنگ بھی سمجھی جا رہی ہے۔
چین کے "لائن شائن” سپر کمپیوٹر نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا امریکا دوبارہ اپنی برتری حاصل کر پائے گا یا سپر کمپیوٹنگ کی نئی دنیا پر چین کی حکمرانی قائم ہونے جا رہی ہے؟












