واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی حکومت کی جانب سے 6 ارب ڈالر کے بانڈز واپس خریدنے کے اعلان نے سرمایہ کاروں کو مطمئن کرنے کے بجائے مارکیٹ میں بے چینی بڑھا دی، جس کے نتیجے میں طویل مدتی امریکی بانڈز پر منافع کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔امریکی حکومت نے 10 سے 20 سال میں مدت پوری کرنے والے بانڈز میں سے 6 ارب ڈالر تک کے بانڈز واپس خریدنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس سے کہیں زیادہ خریداری کی توقع کر رہی تھی۔
اس اعلان کے بعد 10 سالہ امریکی بانڈ پر منافع کی شرح 4 اعشاریہ 85 فیصد سے تجاوز کرگئی، جو تقریباً تین سال کی بلند ترین سطح ہے۔30 سالہ امریکی بانڈ پر منافع کی شرح بھی بڑھ کر 5 اعشاریہ 29 فیصد ہوگئی، جبکہ اگست میں یہ شرح 5 اعشاریہ 33 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ماہرین کے مطابق امریکی بانڈز پر منافع کی شرح میں مسلسل اضافہ امریکی معیشت میں قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گھروں کے قرضے، کاروباری قرضے اور دیگر مالیاتی سہولیات مہنگی ہوسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں نائن الیون حملوں کو 25 سال مکمل، دنیا بدل دینے والے سانحے کی تلخ یادیں آج بھی تازہ
قرض لینے کی لاگت میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کی رفتار کم کرنے کے ساتھ ساتھ حصص کی قیمتوں پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے۔












