بیجنگ ( پاک ترک نیوز) کیا چین نے خاموشی سے سپر پاور بننے کی سب سے بڑی عسکری شطرنج کی چال چل دی ہے؟سیٹلائٹ کی تازہ ترین تصاویر نے امریکہ سے لے کر پینٹاگون تک کھلبلی مچا دی ہے چین کے سب سے خطرناک اور جدید ترین رڈار جیٹ KJ-3000 کی ایک ساتھ چار تصویریں سامنے آتے ہی یہ خبر وائرل ہو گئی ہے کہ چین نے اس ‘اڑتے ہوئے کمانڈ سینٹر’ کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی ہے!”
یہ کوئی عام طیارہ نہیں بلکہ آسمان کا سب سے بڑا جادوگر ہے چین کے اپنے ساختہ چار انجنوں والے Y-20B پلیٹ فارم پر تیار کردہ اس رڈار جیٹ میں دنیا کا پہلا ‘ڈیجیٹل AESA رڈار’ نصب کیا گیا ہے۔ یعنی یہ دشمن کی سگنل جیمنگ کو سیکنڈوں میں ناکارہ بنا کر سو کلومیٹر دور سے نہ صرف دشمن کے سٹیلتھ طیاروں کو دیکھ سکتا ہے بلکہ سمندر میں موجود جنگی جہازوں اور کروز میزائلوں کی بھی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتا ہے!”
"ہوا میں ہی ایندھن بھرنے کی صلاحیت کی وجہ سے یہ طیارہ دن رات آسمان پر ڈٹا رہ سکتا ہے۔اور سب سے خوفناک بات؟ یہ جیٹ چین کے J-20 سٹیلتھ فائٹرز اور بغیر پائلٹ کے ڈرونز کے لیے ‘ماسٹر برین’ کا کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم میں گاڑی دریائے نیلم میں جا گری، 4 بچے جاں بحق
یعنی چینی فائٹر جیٹس اپنا رڈار آن کیے بغیر، صرف KJ-3000 کے دیے گئے ڈیٹا پر دشمن کے طیاروں کو گرا سکیں گے ۔ پینٹاگون کی رپورٹ خود اعتراف کرتی ہے کہ KJ-3000 دنیا کا پہلا ڈیجیٹل رڈار طیارہ ہو سکتا ہے۔
ایک طرف امریکی فضائیہ اپنے پرانے E-3 سسٹمز کو بدلنے کے لیے درپیش مشکلات کا شکار ہے، تو دوسری طرف چین نے اپنے ہی گھر میں تیار کردہ اس جدید ترین جیٹ کی بڑی تعداد میں تیاری شروع کر کے انڈو پیسیفک میں گیم ہی بدل کر رکھ دی ہے!”












