بیجنگ (پاک ترک نیوز )شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے نئے کھولے گئے دریائے یالو پل کے راستے چین کے سرحدی شہر ڈان ڈونگ کا دورہ کیا۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران چین کے اعلیٰ عہدیدار وانگ ہوننگ ان کے ہمراہ تھے، جنہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کا خیرسگالی پیغام پہنچایا۔
تین کلومیٹر طویل یہ پل رواں ماہ طویل تاخیر کے بعد کھولا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس کے ذریعے شمالی کوریا کو بھاری مشینری، خام مال اور توانائی کی مصنوعات کی ترسیل میں سہولت ملے گی اور دوطرفہ تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔
کم جونگ اُن نے ڈان ڈونگ میں جنگِ کوریا کی یادگار پر حاضری دی اور شمالی کوریا کے ساتھ لڑنے والے چینی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے گاڑیاں بنانے والے ایک کارخانے کا بھی دورہ کیا۔
ملاقات میں وانگ ہوننگ نے کہا کہ چین نئے پل کے افتتاح کو آمدورفت، اقتصادی تعاون اور تجارت میں اضافے کا ذریعہ بنانے کے لیے تیار ہے۔
چین شمالی کوریا کا اہم اقتصادی اور سفارتی حامی ہے اور اس کی بیشتر باضابطہ تجارت بھی چین کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے پل سے سامان کی نقل و حمل میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہونے کے بعد تجارت مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق امریکی اور جنوبی کوریائی حکام رواں سال ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ملاقات کے امکانات کم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔












