زیارت ( پاک ترک نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی زیارت پہنچے جہاں انہوں نے قائد ریزیڈنسی پر حاضری دی۔ اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے زیارت سانحے کے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی، ان سے اظہارِ تعزیت و یکجہتی کیا اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
وزیراعلیٰ نے شہداء کے اہل خانہ میں امدادی چیکس بھی تقسیم کیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہداء قوم کا فخر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور حکومت ان کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ ہر شہید کے خاندان کو ایک کروڑ 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، جس کے لیے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے بچوں کی 16 سال تک تعلیم کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی،
جبکہ ہر شہید کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت اور اہل خانہ کو مکمل طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ زیارت سانحے کے ذمہ داروں اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیٹی اپنی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
یہ بیھ پڑھیں: کوئٹہ ، کوئلے کی کان میں دھماکہ، جاں بحق مزدوروں کی تعداد 35ہو گئی
وزیراعلیٰ نے کہا دہشت گردی کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی بلوچ یا پشتون روایات سے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور دشمن کے پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے ریاستی اداروں کا ساتھ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سلامتی، قومی اتحاد اور ریاستی اداروں کا استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ وہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑے رہیں گے اور ان کے لیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔












