اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل کمپنیوں سے مشاورت کے بعد ای سم کی قیمت اور منتقلی کے چارجز میں تبدیلی کردی ہے۔ نئی پالیسی اگست 2026 کے وسط سے نافذ العمل ہوگی۔
پی ٹی اے کے مطابق ای سم جاری کرنے کی ابتدائی زیادہ سے زیادہ فیس 1500 روپے مقرر کردی گئی ہے، جبکہ صارفین کو ایک ہی ای سم کو قابلِ قبول موبائل فونز کے درمیان 10 مرتبہ تک مفت منتقل کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
پی ٹی اے نے بتایا کہ موجودہ نظام کے تحت بھی صارفین کو اصل خریداری اور فعال کرنے کے وقت جاری کیے گئے کیو آر کوڈ کے ذریعے ای سم ایک موبائل فون سے دوسرے موبائل فون میں منتقل کرنے کی اجازت حاصل ہے، تاہم اب اس سہولت کے چارجز کو باقاعدہ طور پر معقول بنایا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت 10 مرتبہ تک ای سم کی منتقلی پر صارف سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو غیر ضروری طور پر کسٹمر سروس مراکز کے چکر لگانے سے بچانا اور ای سم ٹیکنالوجی کو مزید آسان بنانا ہے۔
یہ فیصلہ ایک پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس نے پی ٹی اے کو ای سم منتقلی کے لیے محفوظ اور صارف دوست ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
پی ٹی اے نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ سم کے اجرا اور ملکیت کی تصدیق کو مزید محفوظ بنانے کے لیے نادرا اور موبائل کمپنیوں کے تعاون سے کثیر سطحی تصدیقی نظام متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مواصلاتی نظام سے چینی کمپنی کے آلات کے اخراج پر اربوں یورو لاگت کا خدشہ
پہلی تجویز کے تحت نادرا یہ جائزہ لے رہا ہے کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سم جاری کرنے کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے یا نہیں۔
اس نظام کے ذریعے صارفین کو شناخت کی تصدیق کے لیے گھر سے ہی عمل مکمل کرنے کی سہولت مل سکے گی، جس سے روایتی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے مراکز پر جانے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔
موبائل کمپنیوں کی اپنی ایپس میں خودکار بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت متعارف کرانے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس طریقہ کار میں صارف موبائل کمپنی کی ایپ کے ذریعے نادرا کے ریکارڈ سے اپنی شناخت کی تصدیق کروا سکے گا۔
پی ٹی اے کے مطابق دونوں تجاویز کے تکنیکی اور انتظامی طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے نادرا اور موبائل کمپنیوں سے مشاورت جاری ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ نئے تصدیقی نظام میں چہرے اور آنکھ کی پتلی کی شناخت جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو شامل کیا جائے، جبکہ بزرگ شہریوں، خصوصی افراد اور روایتی بائیومیٹرک تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے بھی آسانی پیدا کی جائے۔
نئی ای سم پالیسی اور مجوزہ ڈیجیٹل تصدیقی نظام سے صارفین کو موبائل خدمات کے حصول میں زیادہ سہولت ملنے کے ساتھ ساتھ سم کی ملکیت اور شناخت کے نظام کو مزید محفوظ بنانے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔












