بیجنگ (پاک ترک نیوز )سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ چین کے شہر دالیان میں ایک نیا طیارہ بردار بحری جہاز کی تیاری جاری ہے ہے، جسے بحری ماہرین ممکنہ طور پر ٹائپ 004 قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس کی لمبائی 336 سے 339 میٹر کے درمیان ہوسکتی ہے، جو چین کے موجودہ فوجیان طیارہ بردار بحری جہاز سے تقریباً 20 میٹر زیادہ ہے اور امریکی بحریہ کے سب سے بڑے فورڈ کلاس جوہری طیارہ بردار جہاز سے بھی کم از کم 6 میٹر بڑا ہوسکتا ہے۔
ممکنہ طور پر یہ نیا چینی طیارہ بردار بحری جہاز 70 سے 90 طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھے گا، جبکہ فوجیان پر تقریباً 50 سے 60 طیارے تعینات کیے جاسکتے ہیں۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئے بحری جہاز میں جوہری توانائی سے چلنے والا نظام استعمال کیے جانے کا امکان ہے، تاہم چین نے ابھی تک اس کی تکنیکی تفصیلات یا باضابطہ نام جاری نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق زیادہ لمبائی سے جہاز کے اندر مشینری، طیاروں کی تیاری اور ہوا بازی کے ایندھن کے ذخیرے کے لیے اضافی جگہ دستیاب ہوسکتی ہے، جس سے طویل عرصے تک سمندر میں آپریشنز کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب چین طیارہ بردار بحری بیڑے کے لیے رسد فراہم کرنے والے بڑے بحری جہازوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔
گوانگ ژو کے قریب کومیک لانگ شیو شپ یارڈ میں تقریباً 271 میٹر لمبا اور 37 میٹر چوڑا ایک نیا معاون بحری جہاز زیر تعمیر ہے، جسے ٹائپ 901 تیز رفتار رسد بردار جہاز کا بڑا ورژن قرار دیا جا رہا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر میں اسی ڈیزائن کا ایک اور بڑا معاون بحری جہاز بھی زیر تعمیر دکھائی دیتا ہے۔












