اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے مختلف ممالک کی شہریت رکھنے والے والدین کے درمیان کمسن بچوں کی حوالگی کے تنازعات سے متعلق پاکستانی عدالتوں کے لیے اہم رہنما اصول جاری کردیئے۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران یہ رہنما اصول وضع کیے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے مقدمات میں جہاں والدین مختلف ممالک کے شہری ہوں، پاکستانی عدالتوں کو اس غیر ملکی عدالت کے دائرہ اختیار کا جائزہ لینا ہوگا جس نے بچے کی حوالگی سے متعلق حکم جاری کیا۔عدالت کے مطابق یہ بھی دیکھا جائے گا کہ غیر ملکی عدالت کا فیصلہ میرٹ پر دیا گیا یا نہیں، کارروائی نجی بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق پاکستانی قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئی یا نہیں، جبکہ یہ بھی جانچا جائے گا کہ فیصلہ قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی یا فراڈ کے ذریعے تو حاصل نہیں کیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی بچے کو اس ریاست سے غلط طور پر منتقل کیا گیا یا وہاں سے واپس لانے سے روکا گیا جہاں وہ معمول کے مطابق رہائش پذیر تھا، اور یہ عمل وہاں کے قانون، عدالتی یا انتظامی فیصلے یا کسی قانونی معاہدے کی خلاف ورزی ہو، تو اسے غلط منتقلی یا غیر قانونی روکنا تصور کیا جائے گا۔عدالت نے واضح کیا کہ جب تک بچہ کسی نئی جگہ پر مستقل طور پر آباد نہ ہوجائے، اسے اس ریاست واپس کیا جانا چاہیے جہاں وہ منتقلی یا روکنے سے قبل معمول کے مطابق رہائش پذیر تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی بچے کی غلط منتقلی یا روکنے کے حوالے سے عدالتی یا انتظامی حکام کی جانب سے نوٹس موصول ہو تو عدالت پہلے بچے کی واپسی کے معاملے کا فیصلہ کرے گی۔ اس سے قبل عدالت کو بچے کی مستقل تحویل کے بنیادی حق پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، جب تک یہ طے نہ ہوجائے کہ 1980 کے ہیگ کنونشن کے تحت بچے کو واپس نہیں کیا جانا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ہی معاملے پر سول اور فوجداری کارروائی ایک ساتھ نہیں چل سکتی، وفاقی آئینی عدالت
عدالت نے قرار دیا کہ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ کی شق 6-A کے تحت مقامی فیملی کورٹس کو 1980 کے ہیگ کنونشن کے تحت بچوں کی واپسی سے متعلق معاملات سننے کا اختیار حاصل ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہیگ کنونشن مختلف رکن ممالک کی عدالتوں کے درمیان دائرہ اختیار کے استعمال کو منظم کرنے اور بچوں کی تحویل سے متعلق متضاد فیصلوں سے بچنے پر زور دیتا ہے۔عدالت نے کنونشن کے آرٹیکل 3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بچے کی منتقلی یا اسے روکنا اس وقت غلط تصور ہوگا جب یہ اس شخص کے تحویل کے حق کی خلاف ورزی ہو جو بچے کی معمول کی رہائش والی ریاست کے قانون، عدالتی یا انتظامی فیصلے یا قانونی معاہدے کے تحت یہ حق رکھتا ہو۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید واضح کیا کہ تحویل کا یہ حق بچے کی منتقلی یا اسے روکے جانے کے وقت حقیقتاً استعمال بھی کیا جا رہا ہونا چاہیے، خواہ یہ حق مشترکہ طور پر استعمال کیا جارہا ہو یا کسی ایک فریق کی جانب سے۔












