اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رکھی جا سکتی، کیونکہ دونوں عدالتوں سے متضاد فیصلے آنے کی صورت میں انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر بنوں کے کیس میں اہم فیصلہ جاری کیا، جو جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی ملکیتی تنازع سے متعلق معاملہ پہلے ہی سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو فوجداری عدالت کو سول عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ متنازع دستاویزات کی اصلیت اور قانونی حیثیت کا تعین بھی سول عدالت کے اختیار میں ہے۔فیصلے کے مطابق متنازع سرٹیفکیٹس کی تصدیق اور ان کی قانونی حیثیت واضح ہونے سے قبل درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی۔ سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی کا آغاز کیا جا سکے گا۔وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ اگر سول اور فوجداری مقدمات ایک ہی معاملے سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو حالات کے مطابق فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم محض بدنیتی سے دائر کیے گئے سول مقدمے کو فوجداری کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ،وزیراعظم
عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ ہر کیس کے مخصوص حالات اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔یہ مقدمہ سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر بنوں اور دیگر افسران کے خلاف اساتذہ کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق تھا۔ حکام پر الزام تھا کہ مبینہ طور پر بوگس دستاویزات کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔جعلی دستاویزات سے متعلق معاملہ سول عدالت میں زیرِ التوا تھا، جبکہ افسران کے خلاف اسی معاملے پر الگ سے فوجداری کارروائی بھی شروع کی گئی تھی۔












