
از: سہیل شہریار
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مشیر محمد یونس نے جاتے جاتے امریکہ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کے ذریعے نہ صرف بنگلہ دیش کی کپڑے کی صنعت کے بھارتی روئی اور دھاگے پر انحصار کو ختم کر دیا ہے ۔ ساتھ ہی کپڑے اور کپڑے کی مصنوعات کی امریکہ کو برآمد میں بنگلہ دیش کو بھارت پر واضح برتری دلادی ہے۔
امریکہ اور بنگلہ دیش نے لگ بھگ نو ماہ کے مزاکرات کے بعد نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کئےہیں جس کے تحت امریکہ نے بنگلہ دیش پر محصولات 19 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ محصولات پہلے 37 فیصد تھے اور گذشتہ سال اگست میں کم کر کے 20 فیصد کیے گئے تھے۔ساتھ اس پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ امریکی روئی ،دھاگے اور مصنوعی ریشے سے تیار کردہ بنگلہ دیشی کپڑے اور ملبوسات پر امریکی منڈیوں میں داخلے پر کوئی محصول لاگو نہیں ہو گا۔
جہاں اس معاہدے کو دونوںفریق اپنی جیت قرار دے رہے وہیں یہ بھارت کے لئے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ کیونکہ اس نے بنگلہ دیش کو بھارت کے مقابل کھڑا کر دیا ہے۔ بھارت کے اندر اپوزیشن جماعتوں اور کپڑے کی صنعت کے نمائندگان نے واویلا مچا رکھا ہے اور اس معاہدے کو مودی سرکار کی ایک اور ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات نے گذشتہ مالی سال میں اپریل 2025 سے جنوری 2026 تک معمولی نتائج دکھائے ۔اور اسکی مجموعی مالیت 29.80 ارب امریکی ڈالر سے گر کر 13.12 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس برآمدی شعبے کلیدی حصوں میں ریڈی میڈ گارمنٹس45فیصد، کاٹن ٹیکسٹائل30فیصد، اور ہاتھ کے بنائے ہوئے ٹیکسٹائل 12فیصد شامل ہیں۔ جبکہ انکےسرفہرست درآمد کنندگان میں امریکہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔
بھارت پریشان ہے کہ بنگلہ دیش کی کپڑے کی صنعت اب بھارتی خام مال چھوڑ کر امریکی روئی اور دھاگے کا استعمال کرے گی ۔کیونکہ ایسا کرنے پر اسکی کپڑے اور کپڑے کی مصنوعات کی امریکہ برآمد پر صفر محصولات لاگو ہونگے۔ جبکہ بھارتی کسان اور دھاگے کی صنعت کونقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش بھارتی دھاگے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ جس نے گذشتہ برس بھارت سے ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کا 57کروڑ کلو گرام دھاگا خریدنے کے علاوہ 12لاکھ سے زیادہ روئی کی گانٹھیں بھی خریدی تھیں۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال تک بنگلہ دیش کی کپڑے کی مصنوعات کی کل برآمدات کا 20 فیصد اوربھارت کا 26 فیصد امریکہ جاتا ہے۔
بھارتی ماہرین معیشت اور کپڑے کی صنعت کے نمائندگان کا اتفاق ہے کہ امریکہ۔ بنگلہ دیش معاہدے کے کپاس پیدا کرنے والے بھارتی کسانوںکے علاوہ دھاگے اور کپڑے کی صنعت پر نمایاں مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ اب بنگلہ دیش اپنی کپڑے کی مصنوعات بغیر کوئی ٹیکس ادا کئے امریکہ برآمد کرے گا۔اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا قیمت کا فرق امریکہ کو بھارتی کپڑے کی برآمدات کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا۔
بھارتی ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نےبھارت کی کپڑے کی صنعت اور کپاس کے کسان، دونوں کو ہی تباہ کر دیا ہے۔ بظاہر تو امریکہ اور بنگلہ دیش میں ’جوابی محصولات کے معاہدے‘ کی ساخت ویسی ہی ہے جیسی بھارت اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی ہے۔ لیکن باریکیاں پورا کھیل ہی بدل دیتی ہیں۔ امریکہ نے بنگلہ دیش کے لیے ’صفر محصول‘ کی شق شامل کی ہے لیکن یہ شرط بھی رکھی ہے کہ بنگلہ دیش کو امریکی کپاس اور خام مال استعمال کرنا ہو گا۔اب بنگلہ دیش صرف امریکی خام مال لے کر کوئی بھی محصول ادا کیے بغیر امریکی منڈی میں داخل ہو سکتا ہے۔ جبکہ بھارتی کپڑا اور کپڑے کی مصنوعات اب اسکا مقابلہ نہیں کر پائیں گے ۔ کیونکہ بھارت 18 فیصد محصول پر اٹکا رہے گا۔












