ڈھاکہ: (پاک ترک نیوز)بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور کرکٹ کشیدگی اب کھیل کے میدان سے نکل کر معاشی اثرات دکھانے لگی ہے، جہاں بنگلہ دیشی کرکٹرز کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کھیلنے سے بنگلہ دیش کے انکار کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں بھارتی تجارتی ادارے بنگلہ دیش سے اپنے روابط محدود کر رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی اسپانسرشپ پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ کئی معروف بنگلہ دیشی کرکٹرز کے اسپانسرشپ معاہدے خطرے میں ہیں یا ان کی تجدید روک دی گئی ہے۔
بھارت کی معروف کرکٹ سازوسامان بنانے والی کمپنیوں نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے ساتھ نئے معاہدوں پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔ بعض کمپنیوں نے پہلے سے موجود معاہدوں کو آگے بڑھانے کے عمل کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیا ہے، جسے ماہرین موجودہ سیاسی حالات سے جوڑ رہے ہیں۔
صرف اسپانسرشپ ہی نہیں بلکہ کھیلوں کے سامان کی تیاری اور سپلائی چین بھی متاثر ہوئی ہے۔ بھارتی اسپورٹس برانڈز نے بنگلہ دیش میں تیار ہونے والی مصنوعات کی پیداوار کم یا بند کر دی ہے، جس سے مقامی فیکٹریوں، مزدوروں اور کھیلوں سے وابستہ صنعت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں تیار ہونے والا کھیلوں کا سامان جو ماضی میں بڑی مقدار میں بھارت کو برآمد کیا جاتا تھا، اب اس کی ترسیل تقریباً معطل ہو چکی ہے۔
اس صورتحال نے نہ صرف بنگلہ دیشی معیشت بلکہ کرکٹ سے وابستہ افراد کی آمدنی کو بھی متاثر کیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری نہ آئی تو اس کشیدگی کے اثرات کھیل، تجارت اور کھلاڑیوں کے مستقبل تک مزید گہرے ہو سکتے ہیں، جس کا نقصان براہِ راست بنگلہ دیش کو اٹھانا پڑے گا۔












