
از: سہیل شہریار
چین نے پاکستان کو پانچویں نسل کے جے۔35ای لڑاکاطیاروں کی فراہمی کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ پہلے مرحلے میں چار سے 12تک طیارے رواں سال کے وسط تک پاک فضائیہ کے حوالے کر دئیے جائیں گے۔
ملایشیا کی معروف دفاعی ویب سائٹ ڈیفنس سیکورٹی ایشیا نےپاکستانی، چینی اور بھارتی میڈیا کی رپورٹس اور اسلام آباد میں اپنے نمائندے کے بے نام اعلیٰ پاکستانی حکام کے دعوؤں کی بنیاد پر کہا ہے کہ پاکستان رواں سال کے پہلے نصف سے آئندہ برس کے آخر تک چین کےجے۔35ای اسٹیلتھ فائٹرز حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔ جو جنوبی ایشیا کے ایئر پاور بیلنس میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔ جس کا مقصد بھارت کے رافیل بیڑے اور تہہ دار فضائی دفاعی ڈھانچے کا بھرپور مقابلہ کرنا ہے۔
2026 کے اوائل اور 2027 کے اوائل کے درمیان پاکستان کو چین سے چار سے بارہ جے۔35ای فائفتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹرز ملنے کا امکان جنوبی ایشیا کے فضائی توازن میں ممکنہ طور پر فیصلہ کن اقدام کی نشاندہی کرتا ہے۔پاکستان فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے اس دعوے کے ذریعے اس رفتار کو اجاگر کیا گیا ہے کہ "ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے کے لیے اگلی نسل کے پلیٹ فارمز کی ضرورت” ناگزیر ہو گئی ہے۔اور یہ ایک ایسا بیان جو اس سوچ کو سمیٹتا ہے کہ چوتھی نسل کی اپ گریڈیشن اب بڑھتی ہوئی جنگ کے لیے کافی نہیں ہے۔
قبل ازیںوزیر دفاع خواجہ آصف نے ابتدائی رپورٹنگ کو "میڈیا چیٹر” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ "کوئی رسمی خریداری کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ مگر تیاری کے اشارے، ٹریننگ پائپ لائنز اور انفراسٹرکچر اپ گریڈ کا جمع ہونا بتاتا ہے کہ عملی منصوبہ بندی قیاس آرائیوں سے آگے بڑھ چکی ہے۔
شہباز شریف انتظامیہ 2025میں اس بات کا عوامی اعتراف کر چکی ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کو 40 پانچوں نسل کے جے۔35ای سٹیلتھ طیاروں، شانکسی کے۔جے 500 اواکس طیاروں اورایچ کیو۔ 19 ایئر ڈیفنس سسٹمز کی پیشکش کی گئی ہے۔
بے نام پاکستانی حکام بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتےہیں کہ جے۔35ای کی ڈیلیوری "مہینوں کے اندر اندر” شروع ہو جائے گی۔اس دعویٰ کو اس بات سے تقویت ملی ہے کہ ائیر چیف نے جنوری 2025 میں پانچویں نسل کے جہازوں کی پاک فضائیہ میں شمولیت کی تصدیق کی تھی۔ جو پاکستان کو امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں سے باہر اسٹیلتھ کی صلاحیت رکھنے والی فضائی افواج کے ایک بہت چھوٹے گروپ میں شامل کر دے گا۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی خریداری کے اس پروگرام کی مجموعی لاگت کا تخمینہ5سے6ارب امریکی ڈالر ہے۔ جس میں ہوائی جہاز، تربیت، اسپیئرز اور معاون انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ فی یونٹ کی بنیاد پر جے۔35ای کی لاگت کا تخمینہآتھ سے 10کروڑ امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ جو مغربی پانچویں نسل کے فائٹرز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس پروگرام کی فنانسنگ میں چینی ریاستی کریڈٹ لائنز، توسیعی ادائیگی کے نظام الاوقات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک میکانزم شامل ہیں جس سے اسلام آباد پر کوئی فوری مالیاتی دباؤ نہیں پڑے گا۔







