واشنگٹن ( پاک ترک نیوز)
امریکا خفیہ طور پر ایسی طاقت حاصل کر چکا ہے جو جنگ کا نقشہ بدل دے گی۔ میدانِ جنگ میں اب تیل نہیں بلکہ نیوکلیئر توانائی فیصلہ کرے گی کہ کون جیتے گا؟ کیلیفورنیا کے مارچ ایئر ریزرو بیس پر ہونے والا ایک خاموش آپریشن دنیا کے طاقت کے توازن کو ہلا دینے کیلئے کافی ہے۔امریکا نے ایک جدید ترین موبائل نیوکلیئر ری ایکٹر C-17 گلوب ماسٹر طیارے میں لوڈ کر کے یوٹاہ منتقل کر دیا ہے۔
یہ کوئی عام ری ایکٹر نہیں بلکہ وارڈ 250 ہے — صرف 5 میگاواٹ طاقت رکھنے والا یہ سسٹم بظاہر چھوٹا دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ تقریباً 5 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی ایک مکمل فوجی بیس اب شہری پاور گرڈ سے آزاد ہو سکتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کا اصل مقصد صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ جنگی حکمتِ عملی کو تبدیل کرنا ہے۔
مستقبل کی جنگیں AI ڈیٹا سینٹرز، ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز، اسپیس اور سائبر سسٹمز پر لڑی جائیں گی اور ان سب کیلئے بے پناہ توانائی درکار ہوگی۔ امریکا اب ایسا نظام بنا رہا ہے جہاں دشمن ایندھن کی سپلائی کاٹ کر بھی امریکی فوج کو نہیں روک سکے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے نیوکلیئر انرجی سے متعلق ایگزیکٹو آرڈرز کے بعد اسے بڑا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق 4 جولائی تک 3 چھوٹے ری ایکٹر فعال ہو سکتے ہیں. یعنی رفتار، طاقت اور ٹیکنالوجی کا ایسا امتزاج جو امریکا کو اپنے حریفوں سے کئی قدم آگے لے جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف دفاعی منصوبہ ہے؟ یا دنیا ایک نئی انرجی کولڈ وار میں داخل ہو چکی ہے؟












