لاہور( پاک ترک نیوز) 23سال کے نوجوان نے مصنوعی ذہانت کی دنیا ہلا دیصرف 23 سال کی عمر۔۔۔نہ کالج کی ڈگری مکمل کی، نہ کوئی بڑی تشہیری مہم چلائی۔۔۔لیکن مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایسا قدم رکھا کہ چند ہی ماہ میں اس کی کمپنی کی مالیت 10 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ایک ایسا ذاتی معاون۔۔۔ جو صرف باتیں نہیں کرتا، بلکہ آپ کی جگہ کام بھی کرتا ہے۔۔۔سفر کی منصوبہ بندی سے ٹکٹ کی بکنگ تک۔۔۔ خریداری سے غیر ضروری رکنیت ختم کرنے تک۔۔۔
اور اب یہ مصنوعی ذہانت بڑے ٹیکنالوجی اداروں کو بھی چیلنج دے رہی ہے۔یہ کہانی ہے 23 سالہ نوح شِن کی۔۔۔کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑی، مصنوعی ذہانت کی دنیا میں قدم رکھا اور پھر ایسا نظام تیار کیا جس نے چند ہی ماہ میں سلیکون ویلی میں تہلکہ مچا دیا۔کمپنی ’’انسٹنکٹ‘‘ نے اگست میں 25 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، اس وقت کمپنی کی مالیت ڈھائی ارب ڈالر تھی۔۔۔لیکن صرف ایک ماہ بعد ایک ارب ڈالر کی مزید سرمایہ کاری۔۔۔اور مالیت سیدھی 10 ارب ڈالر!یعنی چند ہفتوں میں کمپنی کی قدر چار گنا۔۔۔اور ابتدائی سرمایہ کاری کے مقابلے میں تقریباً 200 گنا اضافہ!حیران کن بات یہ ہے کہ کمپنی نے اب تک تشہیر پر ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے سہولت کار اب کے پی میں موجود نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
مصنوعی ذہانت کا یہ معاون صرف سوالوں کے جواب نہیں دیتا۔۔۔اسے کام سونپیں تو یہ آپ کی جانب سے سفر کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے، ٹکٹ بک کرسکتا ہے، خریداری کرسکتا ہے، حتیٰ کہ کسی ادارے کو فون کرکے آپ کے لیے بکنگ بھی کرسکتا ہے۔مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ دعوتی نظام کے باوجود بعض صارفین اپنے دعوت نامے تک فروخت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن نوح شِن کا یہ سفر اچانک شروع نہیں ہوا۔چیٹ جی پی ٹی کے آغاز کے چند ہفتوں بعد اس نے مصنوعی ذہانت پر تحقیق شروع کی۔۔۔اور ایک ایسے طریقے کی تیاری میں حصہ لیا جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اگلے جواب بہتر بنا سکتی ہے۔پروگرامنگ کی ایک آزمائش میں اس تحقیق نے 91 فیصد درستگی حاصل کی، جبکہ اُس وقت جی پی ٹی فور کی درستگی 80 فیصد تھی۔
پھر کالج ادھورا چھوڑا۔۔۔ایک مصنوعی ذہانت کمپنی میں ملازمت کی۔۔۔اور ستمبر 2025 میں نوکری چھوڑ کر اگلے ہی ماہ اپنی کمپنی قائم کردی۔چند ماہ خاموشی سے کام کیا۔۔۔پھر مصنوعی ذہانت کا یہ ذاتی معاون منظرعام پر آیا۔۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے اربوں ڈالر کی دنیا میں داخل ہوگیا۔












