واشنگٹن: (پاک تر ک نیوز)امریکہ نے وینزویلا کی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کنٹرول براہِ راست اپنے خزانے (US Treasury) کے حوالے کرنا شروع کر دیا ہے، اور اب وہ قطر میں رکھے گئے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے پیسے بھیجنے کا سلسلہ ختم کر رہا ہے۔
امریکی انرجی سیکرٹری کرس رائٹ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقم اب قطر میں جمع نہیں ہوگی بلکہ سیدھی امریکی ٹریزری میں جائے گی۔
ابتدائی طور پر یہ پیسے امریکہ کے زیرِ کنٹرول ایک قطر اکاؤنٹ میں جمع کیے جاتے تھے، جس کے بعد وہ وینزویلا کو منتقل کیے جاتے تھے۔ اب اس سلسلے میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ رقم براہِ راست امریکی مالیاتی نظام میں آئے۔
رائٹ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، اور آئندہ چند مہینوں میں مزید تقریباً پانچ ارب ڈالر کے خام تیل کی فروخت کے معاہدے موجود ہیں۔ ان حالیہ بیانات کے مطابق یہ تیل امریکی ریفائنریوں اور یوروپی مارکیٹ میں دستیاب کرایا جا چکا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے سابق صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی تیل برآمدات اور تیل کی دولت پر براہِ راست کنٹرول مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا کے تیل کے معاملات کو اُس وقت تک سنبھالیں گے جب تک وہاں ایک نمائندہ حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔
وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے پائیدار تیل ذخائر رکھتا ہے، اور اس کی برآمدات ملک کی معیشت کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ امریکہ نے حال ہی میں پابندیاں کم کرتے ہوئے متعدد عالمی تیل کمپنیوں کو وینزویلا میں دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے، جس کا مقصد ملکی پیداوار کو بڑھانا بتایا گیا ہے۔
تاہم ماہرین نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے کنٹرول سے وینزویلا کی خود مختاری اور قومی دولت کا فائدہ امریکی مفادات کو پہنچ سکتا ہے، اور اس کے سیاسی و معاشی اثرات خطے میں طویل عرصے تک محسوس ہوں گے۔
نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ نے قطر میں رکھے گئے اکاؤنٹ کو ختم کر کے تیل کی آمدنی کو براہِ راست اپنی ٹریزری میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کی دولت کے استعمال میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ عراق کے بعد اب امریکہ نے وینزویلا کی تیل کی دولت پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیئے ہیں۔












