لاہور (پاک ترک نیوز ) تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کی مبینہ اندرونی کہانی سامنے آگئی، ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران رہنماؤں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے اور بعض معاملات پر تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
ذرائع سے منسوب دعوے کے مطابق اجلاس میں علی امین گنڈاپور اور عمر ڈار کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ علی امین گنڈاپور نے عمر ڈار کی کور کمیٹی اجلاس میں موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر پوچھا کہ آپ کس حیثیت سے کور کمیٹی کے اجلاس میں بیٹھے ہیں؟
ذرائع کے مطابق عمر ڈار کے دفاع میں زبیر نیازی سامنے آئے، جس کے بعد علی امین گنڈاپور اور زبیر نیازی کے درمیان ڈی چوک کے معاملے پر بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بشریٰ بی بی کو ڈی چوک پر چھوڑ کر واپس آنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور اس حوالے سے رہنماؤں کے درمیان بحث ہوئی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حافظ فرحت بھی علی امین گنڈاپور کے ساتھ مبینہ تلخ کلامی میں شامل ہوگئے۔ علی امین گنڈاپور نے حافظ فرحت کی کور کمیٹی میں شمولیت پر بھی سوالات اٹھائے۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ حافظ فرحت کو بانی چیئرمین نے نہیں بلکہ سلمان اکرم راجہ نے اپوزیشن لیڈر بنایا، جبکہ ان کی سیاسی سرگرمیوں اور کارکنوں کے لیے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں کور کمیٹی میں شمولیت کے معیار اور بعض ارکان کی موجودگی پر اختلافات سامنے آئے، جس کے باعث اجلاس کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
دوسری جانب مبینہ تلخ کلامی کے بعد علی امین گنڈاپور کی تصویر سامنے آنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ تصویر کس نے لیک کی۔











