لاہور( پاک ترک نیوز) محبت، مزاحمت اور احساس کے عظیم شاعر احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 18 برس بیت گئے، ان کی شاعری آج بھی اردو ادب کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔احمد فراز نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، جدائی، تنہائی اور انسانی جذبات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا، جبکہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف بھی بھرپور آواز بلند کی۔
احمد فراز کے معروف شعری مجموعوں میں جاناں جاناں، تنہا تنہا، شب خون اور نایافت شامل ہیں، جنہوں نے اردو ادب کو لازوال تخلیقات دیں اور انہیں منفرد مقام عطا کیا۔فراز کی شاعری میں ایک طرف محبت کی نرمی، رومان اور احساس کی گہرائی دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب آمریت، ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت کی گھن گرج بھی سنائی دیتی ہے۔احمد فراز کی شاعری نے نہ صرف ادبی حلقوں میں مقبولیت حاصل کی بلکہ معروف گلوکاروں نے بھی ان کے کلام کو اپنی آواز دے کر اسے مزید مقبول اور امر کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور ایرانی اسپیکر کے درمیان لفظی جنگ تیز، ایک دوسرے پر طنزیہ وار
دنیائے ادب میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں احمد فراز کو ہلالِ امتیاز، ستارۂ امتیاز سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔احمد فراز 25 اگست 2008 کو دنیا سے رخصت ہوئے، تاہم ان کا شعری ورثہ آج بھی نئی نسل کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے اشعار محبت کرنے والوں کے لیے احساس کی زبان اور مزاحمت کرنے والوں کے لیے حوصلے کی آواز بنے ہوئے ہیں۔










