اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) نیپرا نے آزاد کشمیر کے 102 میگاواٹ گلپور ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 سالہ بجلی ٹیرف کی منظوری دے دی۔
نیپرا کے مطابق منصوبے کے لیے لیولائزڈ ٹیرف 9.3843 امریکی سینٹ فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی روپے میں اوسط ٹیرف 14.8507 روپے فی یونٹ ہوگا۔
منصوبے کے پہلے 12 سال کے لیے بجلی کا ٹیرف 17.3751 روپے فی یونٹ جبکہ 13ویں سے 30ویں سال تک 8.2686 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔
گلپور ہائیڈرو پاور منصوبہ دریائے پونچھ پر ضلع مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر میں قائم کیا گیا ہے۔ منصوبے کی خالص معاہدہ شدہ پیداواری صلاحیت 100.98 میگاواٹ جبکہ سالانہ بجلی پیداوار 474.996 گیگا واٹ آور مقرر کی گئی ہے۔
نیپرا کے مطابق ٹیرف کمرشل آپریشن کی تاریخ سے 30 سال تک لاگو رہے گا، جبکہ منصوبے کے قرضوں کی ادائیگی پہلے 12 سال میں مکمل کی جائے گی۔
گلپور منصوبہ میرا پاور لمیٹڈ نے تیار کیا ہے، جو جنوبی کوریا کی کمپنی کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کی ذیلی کمپنی ہے۔ منصوبے میں کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کی 76 فیصد، ڈی ایل ہولڈنگز کی 18 فیصد اور لوٹے انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کی 6 فیصد شراکت داری ہے۔
نیپرا نے اس سے قبل 2015 میں منصوبے کے لیے 9.0241 امریکی سینٹ فی یونٹ کا لیولائزڈ ٹیرف منظور کیا تھا، تاہم بعد میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور دیگر عوامل کے باعث ٹیرف میں ترمیم کی درخواست کی گئی۔
میرا پاور نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ منصوبے کا ٹیرف 104.85 روپے فی ڈالر کی شرح مبادلہ پر مقرر تھا جبکہ قرضوں کی ادائیگیاں تقریباً 150 روپے فی ڈالر کی شرح سے کی جا رہی تھیں، جس سے کمپنی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف سیریز کی تیاریاں شروع
بعد ازاں نیپرا نے مارچ 2021 میں کمرشل آپریشن کی تاریخ پر موجود 158.25 روپے فی ڈالر کی شرح مبادلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیرف میں عبوری ترمیم کی اجازت دی۔
منصوبے کی تعمیر میں فورس میجر واقعات کے باعث تاخیر بھی ہوئی، جس کے نتیجے میں تعمیراتی مدت میں اضافہ اور اضافی اخراجات کے دعوے سامنے آئے۔
نیپرا کی رکن ٹیرف و فنانس امینہ احمد نے اضافی نوٹ میں فیصلے سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مارچ 2022 میں دائر کی گئی کمرشل آپریشن تاریخ سے متعلق درخواست پر تین سال سے زائد عرصے تک فیصلہ نہ ہونا غیر معمولی تاخیر ہے۔
انہوں نے انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن اخراجات پر شرح مبادلہ میں اضافے کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے بھی اختلاف کیا اور کہا کہ نیپرا کے ماضی کے بعض فیصلوں میں ایسے اخراجات پر شرح مبادلہ کی تبدیلی کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔












