حلب: (پاک ترک نیوز)شام کے شمالی شہر حلب میں شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ہزاروں شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
دو دن سے جاری شدید لڑائی کے دوران کرد اکثریتی علاقوں شیخ مقصود اور اشرفیہ سے بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی کر گئے۔ شامی فوج نے بدھ کی سہ پہر ان علاقوں کو "بند فوجی زون” قرار دے کر گولہ باری شروع کی۔
شامی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان علاقوں میں موجود مسلح گروہوں کے حملوں کے جواب میں کی گئی اور اس کا مقصد صرف سیکیورٹی کو برقرار رکھنا ہے۔دوسری جانب کرد قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے، جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ حلب میں اس کی کوئی فوجی موجودگی نہیں، اس کارروائی کو "مجرمانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی کوشش ہے۔
حلب کے ایک رہائشی نے بتایا کہ صورتحال نہایت خوفناک ہے۔”میرے تمام دوست دوسرے شہروں میں جا چکے ہیں۔ کبھی خاموشی ہوتی ہے اور اچانک دوبارہ جنگ شروع ہو جاتی ہے۔”
اشرفیہ سے نقل مکانی کرنے والے ایک شہری، سامر عیسیٰ، نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے کم سن بچوں کے ساتھ ایک مسجد میں پناہ لیے ہوئے ہیں جسے عارضی پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:”گولہ باری شدت اختیار کر گئی تھی۔ ہم اس لیے نکل آئے کیونکہ ہمارے بچے مزید بمباری برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ یہ صورتحال دل توڑ دینے والی ہے۔”یہ تشدد صدر احمد الشرعہ کی حکومت کو درپیش سنگین چیلنجز کو واضح کرتا ہے، کیونکہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے ایک سال بعد بھی شام شدید طور پر منقسم ہے۔مارچ 2025 میں کرد قیادت میں قائم ایس ڈی ایف، جو شام کے شمال مشرقی علاقوں کے بڑے حصے پر قابض ہے اور جس کے پاس دسیوں ہزار جنگجو موجود ہیں، نے شامی ریاست میں اپنی فوجی اور سول اداروں کے انضمام کا معاہدہ کیا تھا۔
تاہم یہ معاہدہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا، اور دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
ایس ڈی ایف اس خودمختاری سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں جو اسے 13 سالہ خانہ جنگی کے دوران حاصل ہوئی، جب اس نے امریکی قیادت میں اسلامی شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔حلب میں جاری کشیدگی ترکی کو بھی اس تنازع میں گھسیٹنے کا خطرہ رکھتی ہے، کیونکہ ترکی شامی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور ایس ڈی ایف پر حاوی کرد ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔












