تل ابیب: (پاک ترک نیوز)ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی تدفینی پالیسی آئندہ دہائیوں میں ناقابلِ برداشت ہو سکتی ہے، کیونکہ معمر آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث سالانہ اموات کی تعداد دگنی ہونے کا امکان ہے۔
تاؤب سینٹر کے ڈیموگرافی شعبے کے سربراہ پروفیسر الیکس وائنریب کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں ہر شہری کو ریاست کے خرچ پر اپنے رہائشی علاقے کے قریب مستقل قبر فراہم کی جاتی ہے، جو دنیا کے اکثر ممالک کے مقابلے میں غیر معمولی سہولت ہے۔
تاہم آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور بیبی بومر نسل کے بڑھاپے میں داخل ہونے سے آئندہ برسوں میں اموات کی شرح میں سالانہ تقریباً 3.85 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
اس وقت اسرائیل میں سالانہ تقریباً 45 سے 50 ہزار اموات ہوتی ہیں، لیکن اندازہ ہے کہ 2040 کی دہائی کے وسط تک یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر جائے گی، جبکہ 2070 کی دہائی کے آخر تک سالانہ اموات دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 سے 2050 کے درمیان مرنے والوں کی تعداد اسرائیل کے قیام سے 2023 کے اختتام تک مرنے والوں سے بھی زیادہ ہوگی۔تل ابیب اور وسطی اضلاع کے بڑے قبرستان، جنہیں طویل المدتی حل سمجھا جاتا تھا، 2035 تک مکمل بھر جانے کے خدشے سے دوچار ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر جامع منصوبہ بندی نہ کی گئی تو ملک کے وسیع علاقے “مردوں کے شہر” میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔اسرائیل میں میت کو مستقل طور پر دفنانے کی روایت مضبوط مذہبی و ثقافتی بنیاد رکھتی ہے، جبکہ مغربی ممالک میں 60 فیصد سے زائد افراد کی تدفین کے بجائے تدہین (کری میشن) کی جاتی ہے۔
اسرائیل میں یہ شرح نہایت کم ہے اور مذہبی طبقات میں اسے اختیار نہیں کیا جاتا۔رپورٹ میں روایتی “فیلڈ برئیل” کے بجائے کثیر المنزلہ تدفین اور قدیم یہودی طریقہ “ہڈیوں کو محفوظ کرنے” (اوسیواری) کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ایک سال بعد باقیات کو چھوٹے صندوق میں منتقل کر دیا جاتا ہے، یوں زمین کا استعمال کئی گنا کم ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طریقے سے فی دونم تقریباً 3 ہزار افراد کی تدفین ممکن ہے، جو موجودہ طریقوں سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔مزید برآں، قانون میں تبدیلی کر کے تدفین کو رہائشی علاقے تک محدود رکھنے کی شرط نرم کرنے اور جنوبی علاقوں میں بڑے تدفینی کمپلیکس قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو اسرائیل کو 2050 تک مزید 3,327 دونم اراضی قبرستانوں کے لیے مختص کرنا پڑے گی، جو خاص طور پر ملک کے گنجان آباد مرکزی علاقوں میں ممکن نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ محض مذہبی یا ثقافتی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی پہلو بھی رکھتا ہے، اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے بغیر آئندہ نسلوں کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔












