انقرہ (پاک ترک نیوز)
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ شام کو ٹکڑوں میں بانٹنے اور تقسیم کرنے کی ہرگز اجازت نہ دے گا اور نہ ہی اس کی قومی و علاقائی سلامتی کے لیے کسی خطرے کو برداشت کیا جائے گا۔
ترک صدر نے اس امر کا اظہارگذشتہ روز حکومت اور کردوں کے زیر نگرانی سیری ین ڈیفنس فورس کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے ممکنہ نقصان سے خبردار کرتے ہوئے کیا ہے۔ترک صدر نےپارلیمان کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شام کی علاقائی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کا ڈھانچہ اپنی سرحدوں کے پار بننے سے روکنے کے لیے تمام مذاکراتی اور سفارتی چینلز استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہماری ان کو ششوں کا مثبت جواب عملی طور پر نہیں دیا گیا تو ترکیہ کی پالیسی اور پوزیشن واضح ہے۔ ترکیہ شام میں تقسیم کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔
واضح رہے کہ ترکیہ کردوں کی حمایت یافتہ فوج کو دہشت گروہ قرار دیتاہے۔چنانچہ ترکیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگرکرد مسلح گروہوںنے اپنے آپ کو شامی حکومتی اداروں کے سپرد نہ کیا تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی جیسا کہ شامی حکومت کے ساتھ اس کا معاہدہ ہے۔












