ابوظہبی ( پاک ترک نیوز) متحدہ عرب امارات کی وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن نے نجی شعبے میں تنخواہوں کی ادائیگی کے نظام میں اہم تبدیلیاں کر دیں جس کا آغاز یکم جون سے کر دیا گیا ۔
نئے قواعد کے مطابق ہر کیلنڈر ماہ کا پہلا دن ملازمین کی سیلری کا دن ہو گا۔ اس تاریخ کے بعد کی گئی کوئی بھی ادائیگی تاخیر تصور کی جائے گی۔یہ نظام ویج پروٹیکشن سسٹم کے تحت نافذ کیا گیا ، جسے وزارت کے جاری کردہ وزارتی قرارداد نمبر 340 برائے 2026 کے تحت لاگو کیا گیا۔ اس کے مطابق تمام نجی ادارے ملازمین کی تنخواہیں مقررہ تاریخ پر منظور شدہ بینکنگ یا ادائیگی نظام کے ذریعے ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔
تمام اداروں کے لیے تنخواہیں ڈبلیو پی ایس یا منظور شدہ نظام کے ذریعے ادا کرنا لازمی ہوگا ،تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق تمام دستاویزات اور ڈیٹا جمع کرانا ضروری ہوگا ،وزارت کی طرف سے طے کردہ قواعد کے مطابق ادائیگیوں کی جانچ کی جائے گی ۔
نئے نظام کے تحت اگر کوئی ادارہ مقررہ تاریخ تک ملازمین کی کم از کم 85 فیصد تنخواہیں ادا کر دیتا ہے تو اسے جزوی طور پر قواعد کی پابندی کرنے والا سمجھا جائے گا ۔ اسی طرح اگر کسی ملازم کو کم از کم 85 فیصد تنخواہ مل جائے تو اسے “غیر ادا شدہ” تصور نہیں کیا جائے گا ،تاہم ملازمین کو باقی واجبات حاصل کرنے کا قانونی حق برقرار رہے گا ۔
نئے نظام میں تنخواہوں کی تاخیر پر مرحلہ وار کارروائی کا نظام بھی شامل ہے، جس میں اداروں کے خلاف مختلف انتظامی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم اس عمل میں عدالتی اداروں، پبلک پراسیکیوشن اور دیگر متعلقہ حکام کے اختیارات برقرار رہیں گے۔
یہ نیا نظام ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے اور نجی شعبے میں مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جس سے لاکھوں ورکرز کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔












