اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان نے پانی کی بڑھتی ہوئی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے پیش نظر چار بڑے ڈیم منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے، جن سے مجموعی طور پر 80 لاکھ ایکڑ فٹ سے زائد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہونے کی توقع ہے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم ،مہمند ڈیم ، اور کرم تنگی ڈیم اور نائی گج ڈیم شامل ہے ،ان منصوبوں کا مقصد پانی کی دستیابی بہتر بنانا، سیلابی صورتحال پر قابو پانا اور پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان چار منصوبوں کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آٹھ اعشاریہ 136 ملین ایکڑ فٹ ہے ، دیا مر بھاشا ڈیم میں چھ اعشاریہ چار ،مہمند ڈیم میں صفر اعشاریہ 676 ،کرم تنگی ڈیم میں صفر اعشاریہ 90 اور نائی گج ڈیم میں صفر اعشاریہ 16 ملین ایکڑ فٹ کی گنجائش ہے ،سندھ بیراج ،شیوک ڈیم ،اخوری ڈیم ،چنیوٹ ڈیم ،مرنج ڈیم پر بھی کام جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بارشوں کے غیر یقینی نظام اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث پانی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔حکام کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت صرف تقریباً 90 دن کے استعمال کے برابر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
گزشتہ سال وزیراعظم نے بھی ملک میں مزید ڈیمز اور ذخائر کی فوری تعمیر پر زور دیا تھا، خاص طور پر اس وقت جب پنجاب کے زرعی علاقے سیلابی صورتحال سے شدید متاثر ہوئے تھے۔
پاکستان میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر ڈیموں کی تعمیر کو قومی ترجیح قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ منصوبے مستقبل میں نہ صرف پانی کی کمی کو کم کرنے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔












