لاہور(پاک ترک نیوز ) لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے سرکاری ملازمین کی بیٹیوں کو فیملی پنشن سے محروم کرنے کی پابندی غیر قانونی قرار دے دی۔ عدالت نے محکمہ خزانہ پنجاب کا فیملی پنشن سے متعلق نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے زاہدہ یاسمین کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، لاہور ہائیکورٹ نے فیملی پنشن سے محروم تین خواتین کی آئینی درخواستیں منظور کرلیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیاں بھی فیملی پنشن کی اہل ہوسکتی ہیں، سرکاری ملازم کی وفات کے بعد فیملی پنشن کا حق صرف بیوہ یا شوہر تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ محض سرکاری ملازم کی بیٹی ہونے کی بنیاد پر پنشن کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جاسکتا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محکمہ خزانہ پنجاب فیملی پنشن کے حق کو محدود کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ فیملی پنشن وصول کرنے والی بیٹی کو والد یا والدہ کی دوسری پنشن سے بھی محروم نہیں کیا جاسکتا۔ والد اور والدہ دونوں سرکاری ملازم ہوں تو ان کی وفات کے بعد پنشن کے دعوے الگ الگ دیکھے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی سڑکوں کی صفائی کے لیے پاکستان کا پہلا فل الیکٹرک سوئیپر ٹرک متعارف
عدالت نے پنشن کے مسترد شدہ دعوے دوبارہ جائزے کے لیے متعلقہ محکموں کو بھجوا دیے اور ہدایت کی کہ خواتین کو سماعت کا موقع دے کر نئے احکامات جاری کیے جائیں۔فیصلے کے مطابق فیملی پنشن کی اہل قرار پانے والی خواتین کو واجبات سمیت پنشن جاری کی جائے جبکہ تمام دعوؤں پر نظرثانی کا عمل فیصلے کی وصولی سے 60 روز میں مکمل کیا جائے۔








