لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی۔جسٹس ملک وقار حیدر اعوان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ شہری سلمیٰ ریاض کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ درخواست میں انتخابی ایکٹ کی دفعہ 215(5) کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ کسی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینا درحقیقت اسے انتخابی عمل سے باہر کرنے اور عملی طور پر غیر مؤثر بنانے کے مترادف ہے۔ آئین کے آرٹیکل 17(1) کے تحت شہریوں کو انجمن سازی اور سیاسی جماعت قائم کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 17(2) کے تحت کسی سیاسی جماعت پر پابندی صرف مخصوص آئینی بنیادوں پر عائد کی جا سکتی ہے، جبکہ کسی جماعت کو انتظامی یا قانونی کارروائی کے ذریعے عملاً ختم نہیں کیا جا سکتا۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے باوجود سیاسی جماعتوں کے وجود اور جمہوری عمل کا تحفظ بنیادی آئینی اصول رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدے بھی سیاسی جماعتوں کی آزادی اور انتخابی عمل میں شرکت کے حق کا تحفظ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز7روز میں کھولنے کی ایرانی تجویز برقرار ہے، عباس عراقچی
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے اقدام کے خلاف حکم جاری کیا جائے۔












