پشاور(پاک ترک نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی، جنید اکبر اور دیگر کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوانے اور لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل بشیر خان وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کئی روز سے غائب ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل رہیں۔
وکیل کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا اور مشیران نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ، اسپیکر اور جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی نے اسپیکر اور ارکان اسمبلی کے حوالے سے استثنیٰ کا بل بھی منظور کیا ہے، جس کے تحت انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔
سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر ہیں، کوئی عام شخصیات نہیں۔ انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جارہا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دس روز کا وقت دینے کے باوجود احکامات پر عمل نہیں ہوا۔
ایڈووکیٹ جنرل ثناء اللہ نے عدالت سے مزید وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ داخلہ سے رپورٹ حاصل کرکے جمع کرائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تھری ایم پی او کے تحت 200 سے زائد کیسز زیرِ التوا ہیں، تاہم عدالت نے کہا کہ یہ تھری ایم پی او کا معاملہ نہیں بلکہ صوبے کے وزیراعلیٰ کی عدم دستیابی سے متعلق اہم کیس ہے۔
درخواست گزاروں کے وکلا نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے گھر کو ڈی سیل کرنے کے عدالتی حکم پر تاحال عمل نہیں ہوا، جو توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلبلِ صحرا گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 13 برس بیت گئے، لازوال گیتوں کا سحر آج بھی برقرار
عدالت نے معاملے کی اہمیت کے پیشِ نظر درخواستیں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو بھجوانے اور لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بھی لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی۔












