
از: سہیل شہریار
یہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ منورہ ہجرت کا دوسرا سال اور شعبان المعظم کی دسویں تاریخ تھی جب اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے رمضان المبارک کے روزے فرض کر کے بخش و مغفرت اوربرکت و رحمت سے مالا مال کر دیا۔
چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ۔
رمضان المبارک کی آمد پر رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری دن ایک خصوصی خطبہ دیا جس میں اس بابرکت مہینے کی عظمت، فضیلت، اور اس میں روزے، تراویح، قرآن کی تلاوت، اور صدقہ و خیرات کی کثرت کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے اسے رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ قرار دیا اور ہمیں چار کاموں کلمہ طیبہ، استغفار، جنت کا سوال، اور دوزخ سے پناہ کی کثرت کا حکم دیا۔
نبی کریم رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ افگن ہو رہا ہے۔ آپ ﷺ نے شب قدر کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ۔ اس مہینے میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور راتوں میں قیام (تراویح) کو نفل بنایا ہے۔جو شخص اس مہینے میں نفل ادا کرے گا تو گویا اس نے دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا۔ اور جو اس مہینے میں فرض ادا کرے گا تو یہ ایسا ہو گا جیسے دوسرے مہینے میں ستر فرض ادا کئے۔ پھر ارشاد فرمایایہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ غم خواری و ہمدردی کا مہینہ ہے۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔جو کسی روزہ دار کو روزہ افطار کروائے تو اسکے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور اسکی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے۔ اور اسے روزہ دار جتنا ثواب ملے گا۔ مگر روزہ دار کے ثواب میں کمی نہیں ہو گی۔
حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم (صحابہ کرام ؓ )نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر شخص اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کروائے تو نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اسے بھی دے گا جو روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ، ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کروائے گا۔اور جو روزہ دار کو پیٹ بھر کھلائے پلائےگا۔ اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض سےوہ پانی پلائے گاجس سے کبھی پیاسا نہیں ہوگایہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس کا اول حصہ رحمت درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا ہے ۔ جس نے رمضان کے زمانے میں اپنے غلام سے ہلکی خدمت لی، اللہ تعالیٰ اُسے بخش دے گا اور اُس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس مہینے میں چار چیزوں کی کثرت کرو:کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ) کا کثرت سے پڑھنا۔اللہ سے استغفار (مغفرت) مانگنا۔جنت کا سوال کرنا۔ اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگنا۔











