لاہور( پاک ترک نیوز) رمضان المبارک کے آخری عشرے کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر کی مساجد عبادت گزاروں سے آباد ہو جاتی ہیں ۔ سینکڑوں افراد دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کش ہو کر دس دن کیلئے مسجد میں قیام اختیار کرتے ہیں، جسے اعتکاف کہا جاتا ہے۔
رمضان المبارک کا آخری عشرہ رحمت، مغفرت اور نجات کا پیغام ہے ۔اعتکاف کے دنوں میں مساجد کے مناظر بدل جاتے ہیں۔۔ مساجد میں کوئی قرآن کی تلاوت میں مصروف تو کوئی ذکر و اذکار میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے ۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب دنیا کی مصروفیات چھوڑ کر بندہ اپنے رب کےحضور حاضر ہوتا ہے۔
رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کا یہ روح پرور سفر دراصل اللہ کی قربت حاصل کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔ معتکفین نہ صرف عبادت میں مصروف رہتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کا احتساب بھی کرتے ہیں۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب بندہ اپنے گناہوں پر ندامت محسوس کرتا ہے اور اللہ سے بخشش کی امید رکھتا ہے۔اسی عشرے میں شب قدر بھی آتی ہے، جسے ہزار مہینوں سے بہتر رات قرار دیا گیا ہے۔
اعتکاف سنت نبوی ﷺ ہے، جس کا مقصد انسان کو دنیا کی الجھنوں سے نکال کر روحانی سکون فراہم کرنا اور اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ اعتکاف دراصل انسان کو اللہ کے قریب کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہے اور اللہ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا ہے۔
اعتکاف کے دنوں میںمساجد میں انتظامیہ کی جانب سے معتکفین کیلئے سحری اور افطار اور دیگر سہولیات کا خصوصی انتظام بھی کیا جاتا ہے۔
علمائے کرام کے مطابق رمضان کا آخری عشرہ دراصل اللہ کی رحمتوں کو سمیٹنے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے اعتکاف انسان کو صبر، برداشت اور نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ان دس دنوں میں معتکفین قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار اور خصوصی عبادات میں مصروف رہتے ہیں اور شب قدر کی تلاش میں عبادت کرتے ہیں۔ اگر اعتکاف کی روح کو سمجھ کر عبادت کی جائے تو یہ انسان کی زندگی بدلنے کا سبب بن سکتا ہے











