واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)امریکی فوج نے بھارتی سمندر میں ایک اور تیل بردار جہاز کو روک کر اس پر چڑھائی کردی، جسے وینزویلا سے پابندیوں کے باوجود خام تیل لے جانے کی کوشش کا الزام تھا۔
پینٹاگون کے مطابق یہ جہاز ویرونیکا تھری پاناما کے پرچم تلے چل رہا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندی سے بچ کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس جہاز کو کیریبین سمندر سے بھارتی سمندر تک مسلسل ٹریک کیا گیا اور بالآخر اسے روک کر اس پر کارروائی کی گئی۔
اس آپریشن کی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں امریکی اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر اترتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ جہاز رواں سال 3 جنوری کو وینزویلا سے روانہ ہوا تھا، اسی روز جب امریکی کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔
جہاز میں تقریباً 19 سے 20 لاکھ بیرل خام تیل اور فیول آئل موجود تھا۔امریکا نے گزشتہ برس دسمبر میں پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل بردار جہازوں کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ وینزویلا پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
اس کارروائی کے بعد کئی جہاز وینزویلا کے ساحل سے فرار ہوگئے تھے جن میں یہ جہاز بھی شامل تھا۔پینٹاگون کے مطابق حالیہ مہینوں میں کم از کم نو جہازوں کو قبضے میں لیا جا چکا ہے، تاہم عالمی سطح پر پابندیوں سے بچ کر تیل لے جانے والے ایسے جہازوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔
یہ کارروائیاں ٹرمپ انتظامیہ کی اس بڑی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد وینزویلا کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا اور اس کی فروخت سے مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔دوسری جانب امریکی فوج منشیات اسمگلنگ کے شبے میں سمندری اہداف پر فضائی حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔












