واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)بحرالکاہل میں ایک کشتی پر تازہ امریکی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی منشیات کے خلاف مہم کا حصہ تھی، تاہم اس مہم کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی فوج نے بتایا ہے کہ مشرقی بحرالکاہل میں ایک کشتی پر کیے گئے تازہ حملے میں دو افراد مارے گئے۔امریکا کے جنوبی کمانڈ (یو ایس سدرن کمانڈ – SOUTHCOM)، جو لاطینی امریکا میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے، نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ “اس کارروائی کے دوران دو نارکو دہشت گرد مارے گئے”۔
تاہم سدرن کمانڈ کی جانب سے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے کہ نشانہ بننے والی کشتی یا ہلاک ہونے والے افراد منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
بحرالکاہل اور کیریبین میں کشتیوں پر امریکی حملے، جن میں ستمبر 2025 میں پہلے ریکارڈ شدہ واقعے کے بعد اب تک 34 حملوں میں کم از کم 126 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت بڑے پیمانے پر غیر قانونی قرار دیے جا چکے ہیں۔
نگرانی کرنے والے ادارے ایئر وارز (Airwars) کی مرتب کردہ رپورٹس کے مطابق یہ تازہ حملہ 2026 میں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں کیا جانے والا پہلا حملہ دکھائی دیتا ہے۔












