واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کے جرم میں مجرم قرار دیے گئے رائن راؤتھ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت کے مطابق یہ سازش 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی تھی۔
59 سالہ رائن راؤتھ پر الزام تھا کہ وہ فلوریڈا کے ایک گالف کورس میں جھاڑیوں میں تقریباً 10 گھنٹے تک نیم خودکار رائفل کے ساتھ چھپا رہا، جہاں اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے۔
بعد ازاں سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے اسے مشکوک حالت میں دیکھ کر گرفتار کر لیا۔بدھ کے روز فیصلے میں امریکی ضلعی جج کینن نے کہا،”یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ نے کسی انسان کی جان لینے کے لیے سوچا سمجھا اور منظم منصوبہ بنایا۔”رائن راؤتھ نے مقدمے کے دوران خود اپنی وکالت کی اور عدالت سے 27 سال قید کی سزا کی درخواست کی، تاہم استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے اقدامات کا مقصد "امریکی جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا” تھا، جس پر عمر قید کی سفارش کی گئی۔
یہ واقعہ 15 ستمبر 2024 کو فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں ٹرمپ انٹرنیشنل گالف کلب میں پیش آیا۔ یہ واقعہ اس سے دو ماہ بعد ہوا جب پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ پر فائرنگ کی گئی تھی، جس میں گولی ان کے کان کو چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔
استغاثہ کے مطابق رائن راؤتھ واقعے سے تقریباً ایک ماہ قبل جنوبی فلوریڈا پہنچا تھا، جہاں وہ ایک ٹرک اسٹاپ پر مقیم رہا اور اس دوران ٹرمپ کی نقل و حرکت اور معمولات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتا رہا۔
عدالت میں غیر معمولی اور الجھے ہوئے بیانات دیتے ہوئے ہتھکڑی لگے راؤتھ نے بیرونِ ملک تنازعات کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ خود کو غیر ملکی سیاسی قیدیوں کے بدلے تبادلے کے لیے پیش کرنا چاہتا ہے۔ملزم نے عدالت میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کا ٹرمپ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اس نے کہا کہ وہ جیل میں نفسیاتی علاج کرانے کے لیے تیار ہے۔












