بیجنگ : (پاک ترک نیوز) امریکا کا جدید ترین اسٹیلتھ بمبار بی ٹوئنٹی ون ریڈر جسے دنیا کا سب سے خطرناک جنگی طیارہ کہا جا رہا ہے آج ایک حیران کن چینی دعوے کی زد میں آ چکا ہے۔
چینی ایرو اسپیس ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک جدید سافٹ ویئر کی مدد سے بی ٹوئنٹی ون ریڈر کے ڈیزائن میں ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کر لی ہے۔
یہ دعویٰ چین کے ایک معتبر سائنسی جریدے ایکٹا ایرو ناٹیکا ایٹ ایسٹروناٹیکا سائنیکا میں شائع ہونے والی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔اس تحقیق کا مرکز ایک سافٹ ویئر ہے جسے پی اے ڈی جے ایکس کہا جاتا ہے۔چینی محققین کے مطابق یہ سسٹم روایتی کمپیوٹیشنل فلُوئیڈ ڈائنامکس کے بجائے ایڈجوائنٹ آپٹیمائزیشن نامی جدید ریاضیاتی طریقہ استعمال کرتا ہے، جس سے سینکڑوں ڈیزائن پیرامیٹرز کو ایک ساتھ جانچا جا سکتا ہے۔
چینی سائنسدانوں نے بی ٹوئنٹی ون ریڈر کی وہ شکل استعمال کی جو سرکاری تصاویر میں نظر آتی ہے، اور دعویٰ کیا کہ ان کی سیمولیشن کے مطابق طیارے کی لفٹ ٹو ڈریگ ریشو میں پندرہ فیصد بہتری ممکن ہے، جبکہ پچنگ مومنٹ تقریباً صفر کے قریب لایا جا سکتا ہے۔
سادہ لفظوں میں، اگر یہ دعویٰ درست ہو تو اس کا مطلب ہے کم ایندھن خرچ، زیادہ رینج، اور بہتر اسٹیبلٹی۔لیکن یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔کیا واقعی چین نے امریکا کے اسٹیلتھ بمبار کے راز پا لیے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیلتھ طیارے کی اصل طاقت صرف اس کی جیومیٹری نہیں ہوتی۔ریڈار ایبزاربنگ میٹیریلز، فلائٹ کنٹرول سافٹ ویئر، انٹرنل ویپن کنفیگریشن، الیکٹرانک وارفیئر اور نیٹ ورکڈ جنگی نظام وہ عوامل ہیں جو مکمل طور پر خفیہ ہوتے ہیں۔
امریکی فضائیہ واضح کر چکی ہے کہ بی ٹوئنٹی ون ریڈر صرف ایک طیارہ نہیں بلکہ ایک مکمل نیٹ ورکڈ اسٹرائیک پلیٹ فارم ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر پی اے ڈی جے ایکس واقعی اتنا طاقتور ہے، تو اس کا سب سے بڑا فائدہ شاید امریکا نہیں بلکہ چین کے اپنے مستقبل کے جنگی طیاروں کو ہوگا۔سوال اب یہ نہیں کہ چین نے کیا دعویٰ کیا…اصل سوال یہ ہے:کیا آنے والے وقت میں جدید جنگیں میدان میں کم اور کمپیوٹر سیمولیشن میں زیادہ لڑی جائیں گی؟












