راولپنڈی :(پاک ترک نیوز)اکیسویں صدی کے میدانِ جنگ میں کامیابی اسی فوج کے حصے میں آتی ہے جو پہلے دیکھے، پہلے وار کرے اور سب سے پہلے فیصلہ کرے۔
پاکستان آرمی نے حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں میں جدید ملٹی ڈومین آپریشنز کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ جدید جنگی تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
مختلف جغرافیائی خطوں اور متنوع جنگی منظرناموں میں منعقد ہونے والی ان مشقوں کے دوران پاکستان آرمی نے اپنی مقامی سطح پر تیار کردہ جدید اور مخصوص ہتھیاروں کے نظام اور ٹیکنالوجیکل اختراعات کا بھرپور مظاہرہ کیا، جو جدید میدانِ جنگ کی صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ملٹی ڈومین آپریشنز میں فضائی، زمینی، سائبر، الیکٹرانک وارفیئر اور خودکار نظاموں کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے، جہاں ہر سینسر ہر شوٹر سے جڑا ہوتا ہے، ہر حملہ اگلی پیش قدمی کی راہ ہموار کرتا ہے اور ہر کارروائی دشمن کو شکست کے قریب لے جاتی ہے۔
یہ حکمتِ عملی روایتی اور فضائی فائر پاور، مربوط نقل و حرکت، اطلاعاتی جنگ، اسپیکٹرم وارفیئر، کثیر سطحی فضائی دفاع اور ہمہ مقصد ڈرونز کے امتزاج پر مبنی ہے۔ان مشقوں میں دکھایا گیا کہ جدید جنگ میں اصل معرکہ ٹینکوں کی پیش قدمی سے پہلے ہی جیت لیا جاتا ہے۔
سینسر دشمن کی نشاندہی کرتے ہیں، نیٹ ورکس معلومات کو یکجا کرتے ہیں، فیصلے تیزی سے ہوتے ہیں اور شوٹر گرڈ بے رحمانہ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔
مقصد واضح ہوتا ہے: دشمن کو مفلوج کرنا، اس کے دفاع کو تباہ کرنا اور کم سے کم مزاحمت کے ساتھ ہدف حاصل کرنا۔
پاکستان آرمی کی بکتر بند فورس نے جارحانہ کارروائی کی قیادت کی، جہاں ٹینکوں کی گھن گرج، شدید فائر پاور اور برق رفتار نقل و حرکت نے دشمن کے دفاعی حصار توڑ ڈالے۔ ان کے عقب میں میکانائزڈ انفنٹری نے قبضہ شدہ علاقے کو مستحکم کیا۔
فضا میں ایف-16 اور جے ایف-17 تھنڈر طیاروں نے انتہائی درستگی کے ساتھ دشمن کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور دفاعی لائنوں میں شگاف ڈال دیے۔توپخانے نے میدانِ جنگ کی شکل بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جدید ڈیجیٹل ٹارگٹنگ سسٹمز کے ذریعے شدید اور مسلسل گولہ باری نے دشمن کے اگلے اور اندرونی دفاعی حصوں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔
دشمن کی توپیں خاموش ہو گئیں، ان کی صفیں بکھر گئیں اور جنگی ہم آہنگی ٹوٹ گئی۔اسی دوران انجینئرنگ یونٹس نے بارودی سرنگوں کو صاف کر کے محفوظ راستے بنائے تاکہ بکتر بند دستے اپنی رفتار برقرار رکھ سکیں، کیونکہ جدید جنگ میں رفتار ہی بقا ہے۔ جدید اینٹی ٹینک ہتھیاروں، بھاری مشین گنز اور بیس آف فائر نے دشمن کو مکمل طور پر جکڑ لیا۔مقامی طور پر تیار کردہ جدید ڈرونز، جن میں اے آئی سے لیس ٹارگٹنگ، جدید کیمرے اور الیکٹرانک تحفظ موجود ہے، دشمن کے گہرے علاقوں تک پہنچے۔
سرویلنس ڈرونز نے نقل و حرکت کی نگرانی کی، جبکہ کامیکازی ڈرونز اور ڈرون سوارمز نے دشمن کے مضبوط بنکروں کو خاموشی سے تباہ کر دیا۔ یہ اثر پر مبنی جنگ کا واضح مظاہرہ تھا۔فضا میں کوبرا گن شپ، زیڈ-10 ایم ای حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور اسکاؤٹ ہیلی کاپٹرز نے توپ، راکٹ اور میزائل حملوں کے ذریعے دشمن کی ہر ممکن مزاحمت کو کچل دیا۔
یہ زمینی اور فضائی قوتوں کی مکمل ہم آہنگی کا عملی ثبوت تھا۔ان مشقوں نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج جدید ٹیکنالوجی، شدید فائر پاور اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ محض مشقیں نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری قوت، خود انحصاری، اور غیر متزلزل عزم کا اعلان ہیں۔












