واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا گرین لینڈ کو “چاہے ان کی مرضی ہو یا نہ ہو” حاصل کر لے گا، دراصل امریکا اور دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کے درمیان ایک صدی پر محیط پیچیدہ تعلقات کی تازہ کڑی ہے۔ یہ تعلقات اگرچہ طویل عرصے سے جاری ہیں، مگر حالیہ برسوں میں شدید تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔
14 جنوری 2026 کو امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے بیانات پر بات چیت کی۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات موجود ہیں، تاہم بات چیت جاری رہے گی۔
امریکا میں سینیٹر مچ میکونل سمیت کئی رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے سخت مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش اتحادیوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تاریخی طور پر امریکا نے گرین لینڈ کو اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ 19ویں صدی کے آخر میں امریکی نیوی افسر رابرٹ پیری نے گرین لینڈ سے قیمتی دھاتی شہابیے کے بڑے ٹکڑے امریکا منتقل کیے، جنہیں مقامی انوئٹ صدیوں سے اوزار بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
ان میں سے سب سے بڑا ٹکڑا آج بھی نیویارک کے امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں موجود ہے۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران گرین لینڈ امریکا کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر گیا۔
1941 میں ایک معاہدے کے تحت امریکا کو وہاں فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت ملی، جو آج تک مؤثر ہے۔ انہی اڈوں سے یورپ جانے والے امریکی طیاروں کو ایندھن فراہم کیا جاتا تھا، جبکہ نایاب معدنیات کی حفاظت بھی امریکی فوج کے ذمے تھی۔
سرد جنگ کے دوران امریکا نے گرین لینڈ میں انتہائی خفیہ اور بعض اوقات غیر حقیقی منصوبے شروع کیے، جن میں برف کے نیچے ایٹمی اڈے اور میزائل ٹرینوں کے منصوبے شامل تھے۔
کیمپ سینچری نامی ایٹمی اڈہ بالآخر ناکام ہو گیا اور وہاں چھوڑا گیا زہریلا فضلہ آج بھی ایک بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے، جو برف پگھلنے کے ساتھ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرین لینڈ سے امریکی مفادات حاصل کرنے کی کوششیں اکثر ناکامی سے دوچار رہیں، کیونکہ ان منصوبوں میں جزیرے کے سخت موسم، تنہائی اور متحرک برفانی ساخت کو نظر انداز کیا گیا۔
آج بھی موسمیاتی تبدیلی گرین لینڈ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، جہاں پگھلتی برف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سمندری سطح میں اضافے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ کی اصل عالمی اہمیت اس کے معدنی وسائل نہیں بلکہ اس کی برفانی چادر ہے۔ اگر یہ برف مکمل یا جزوی طور پر پگھل گئی تو عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے، جو ساحلی شہروں اور جزیرہ نما ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی دانشمندانہ حکمتِ عملی گرین لینڈ کے وسائل کو لوٹنے کے بجائے اس کی برفانی چادر کے تحفظ میں مضمر ہے، کیونکہ یہی عالمی سلامتی کا اصل ضامن ہے۔












