واشنگٹن :(پاک ترک نیوز) لگتا ہے کہ ایران پر حملے کا وقت بہت ہی کم رہ گیا ہے کیونکہ امریکا نے ایران پر ایک ایسا الزام لگا دیا ہے، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ضرور ایران پر حملہ کرنے کی سازش کریں گے۔
یہ بات ہے اقوام متحدہ کی، جہاں امریکا کے مستقل مندوب مائیک والز نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی سازش کی تھی۔
اس الزام کا اب ایران کو جواب دینا ہے۔خیال رہے کہ 13 جولائی 2024 ء کے روز پنسلوینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ کیا گیا تھا۔
اس کے بعد ستمبر 2024ء میں بھی فلوریڈا کے مقام پر بھی ٹرمپ پر حملہ ہوا، جس میں ایک افغان شہری ملوث تھا۔ اس افغان شہری کا نام فرہاد شاکری تھا۔ایرانی پاسداران اسلام پر الزام ہے کہ اس نے فرہاد شاکری کو قائل کیا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر گولی چلائے۔
کہا جا رہا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کے پاس اس کے ثبوت ہیں، لیکن ان کو ابھی تک پیش نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن دشمن کس طرح وار کرتا ہے۔
اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈین میڈیا اب رپورٹ جاری کی ہے کہ جنوری کے اوائل میں ایران نے ایسی ڈاکیومینٹری پیش کی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا ذکر تھا۔
اس ڈاکیومینٹری کا عنوان تھا: "اب گولی نشانہ نہیں چوکے گی”۔
انڈین میڈیا کے اس پراپگینڈا سے لگتا ہے کہ ایران پر جنگ بڑے بھیانک انجام کی طرف جانے والی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امن کی خواہش کریں بھی تو جنگ کی آگ بھڑکانے والے ممالک جلتی پر تیل کا کام کرتے رہیں گے۔ بھارتی میڈیا کے اس الزام کا ذکر اب اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والز نے بھی کر دیا ہے۔












