واشنگٹن: (پاک ترک نیوز)ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکی فوج نے ایران کی فضائی حدود کے قریب اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی طیارے، جن میں KC-135R ایندھن فراہم کرنے والے جہاز اور B-52 بمبار شامل ہیں، نے ایران کے نزدیک پروازیں کیں، جو ممکنہ فوجی آپریشن کا اشارہ سمجھی جا رہی ہیں۔
یہ پیش رفت وائٹ ہاؤس کی طرف سے پیر کی شب ایک اشارہ جاری کرنے کے بعد سامنے آئی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر شیئر کی گئی اور ساتھ میں ایک پیغام تھا: "خدا ہماری افواج کی حفاظت کرے، خدا امریکہ کی حفاظت کرے، ہم ابھی آغاز میں ہیں۔”
اس دوران پینٹاگون کے قریب پیزا ریستورانوں میں غیر معمولی آرڈرز میں اضافہ ہوا، جسے اسرائیلی ذرائع نے ممکنہ فوجی کشیدگی کے اشارے کے طور پر رپورٹ کیا۔
امریکی انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف "فوجی اور غیر فوجی آپشنز” پر بریفنگ دی ہے، جن میں محدود حملے، سائبر آپریشنز اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری آبادی پر اثرات کم رکھنے والے آپشنز کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور فی الحال کوئی بڑی فوجی تعیناتی نہیں ہو رہی۔
ایک سابق عہدے دار کے مطابق واشنگٹن ایلون مسک کے سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے، تاکہ ایران میں معلوماتی اثرات بڑھائے جا سکیں۔
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران مظاہرین کے خلاف تشدد کر رہا ہے اور امریکہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری پاس کچھ بہت مضبوط آپشنز ہیں اور فیصلہ جلد کیا جائے گا۔”اس پیش رفت سے مشرق وسطی میں کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے اور دنیا بھر کی نظر امریکی اقدامات اور ایران کی ردعمل پر مرکوز ہے۔












