بیجنگ: (پاک ترک نیوز)دنیا کے سب سے بلند اور خطرناک محاذ سیاچن سے ایک ایسی خبر آ رہی ہے جس نے بھارت میں کھلبلی مچا دی ہے۔
وہ محاذ جسے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، اب اس کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ سیاچن کی فتح کا وقت بہت قریب دکھائی دیتا ہے۔
سب سے پہلے ذرا پس منظر سمجھ لیجیے۔سیاچن گلیشیئر پر بھارت نے 1984 میں خاموشی سے قبضہ کیا تھا، بالکل اسی انداز میں جیسے بعد میں کارگل میں پیش رفت کی گئی۔
یہ علاقہ شدید سرد، برف پوش اور انسانی بقا کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ یہاں فوجیں صرف مخصوص موسم میں ہی قیام کر سکتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آیا جب پاکستانی افواج موسمی مجبوریوں کے باعث نیچے آئیں، اور بھارت نے اس خلا سے فائدہ اٹھا کر قبضہ جما لیا۔
تب سے دونوں افواج آمنے سامنے ہیں، اور یہ صورتحال پاکستان کے لیے کبھی قابلِ قبول نہیں رہی۔
لیکن اب منظر بدل رہا ہے۔شمال کی جانب سے چین میدان میں اتر چکا ہے اور جنوب سے پاکستان پہلے ہی موجود ہے۔ اصل گیم چینجر ہے شکسگام ویلی — وہ اسٹریٹجک علاقہ جو 1963 میں پاکستان نے چین کو دیا تھا۔
یہ وادی سیاچن کے بیس کے عین قریب واقع ہے اور پورے لداخ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے لیے نہایت حساس حیثیت رکھتی ہے۔
چین نے یہاں صرف موجودگی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ CPEC فیز ٹو کے تحت ایک جدید ہائی وے تعمیر کر دی ہے، جو سیدھی سیاچن کے دامن تک جاتی ہے۔ یہی وہ سڑک ہے جس نے بھارت کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
بھارتی میڈیا، انٹیلی جنس اور ہندوتوا حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔لیکن اصل دھماکہ ابھی باقی ہے۔چین نے جدید روبوٹک ڈاگز تیار کر لیے ہیں — یہ عام مشینیں نہیں، بلکہ AI سے لیس، مسلح، لیزر ٹیکنالوجی سے آراستہ جنگی یونٹس ہیں۔
یہ برف پوش پہاڑوں پر وہ کام کر سکتے ہیں جو انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ نہ سردی کا خوف، نہ بلندی کا دباؤ۔یہ روبوٹک ڈاگز جھنڈ کی صورت میں آگے بڑھتے ہیں، ریئل ٹائم ڈیٹا پیچھے کنٹرول سینٹر کو بھیجتے ہیں، جہاں ماہرین لمحہ بہ لمحہ ہدایات دیتے ہیں۔ یوں آنکھیں اور دماغ پیچھے، اور فولادی جسم آگے ہوتا ہے۔
جب شمال سے چین کا دباؤ، جنوب سے پاکستان کی موجودگی، جدید انفراسٹرکچر، نئی ٹیکنالوجی اور AI وارفیئر اکٹھے ہو جائیں — تو سیاچن کا محاذ اب زیادہ دیر تک ویسا نہیں رہ سکتا جیسا آج ہے۔












