تہران: (پاک ترک نیوز)ایران میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں متعدد شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ تصادم میں ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد بتائی جا رہی ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔امریکی جریدے ٹائم میگزین نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مختلف شہروں میں جاری جھڑپوں کے دوران کم از کم 217 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مظاہروں کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ تشدد کی نوعیت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق مظاہرین نے کئی شہروں میں بینکوں، مذہبی مقامات، اسپتالوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
متعدد سرکاری دفاتر اور پولیس تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں ایمبولینسوں کو روکنے اور شہری ٹرانسپورٹ کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آئے، جس سے ہنگامی طبی سہولیات بری طرح متاثر ہوئیں۔ سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ ملک کے کئی حصوں میں انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے۔
ٹائم میگزین کے مطابق تہران کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دارالحکومت کے چند بڑے اسپتالوں میں ہی 200 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں اکثریت افراد کی گولی لگنے سے موت واقع ہوئی۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ہلاکتوں کی تعداد کم بتاتے ہوئے عام شہریوں کی بڑی تعداد کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر جان بوجھ کر عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایرانی عوام کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے اور ملک کرائے کے فسادیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔آیت اللہ خامنہ ای نے قوم پر زور دیا کہ وہ اتحاد اور استحکام کو برقرار رکھے، جبکہ امریکی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی ریاستی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور بیرونی مداخلت کو روکا جائے۔ وزارت خارجہ کے مطابق امریکی بیانات داخلی معاملات میں کھلی مداخلت اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے مترادف ہیں۔
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج کو تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی مداخلت بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، تاہم ایرانی قوم ماضی کی طرح اس بار بھی ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔












