تہران: (پاک ترک نیوز) ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شدید معاشی دباؤ کے خلاف شروع ہونے والا عوامی ردعمل اب ایک وسیع ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق مظاہرے ملک کے27 صوبوں میں پھیل چکے ہیں، جہاں 250 سے زائد شہروں اور علاقوں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں، جس کے باعث مجموعی صورتحال غیر معمولی طور پر کشیدہ ہو گئی ہے۔
مختلف شہروں سے مظاہرین اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تصادم کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے ادارے ہلاکتوں میں اضافے کی تصدیق کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک ان مظاہروں کے دوران کم از کم 35 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
دوسری جانب نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں تقریباً 250 پولیس اہلکار اور بسیج فورس کے 45 رضاکار زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری اس عوامی تحریک کے دوران 1200 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں اور طلبہ کی بتائی جا رہی ہے۔
مختلف جامعات میں بھی علیحدہ علیحدہ احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے ہیں، جہاں طلبہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے اور حکومت فوری اور مؤثر اقدامات میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے ایرانی حکومت نے ایک ہنگامی مالی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق شہریوں کو آئندہ چار ماہ تک ماہانہ سات ڈالر فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مہنگائی کے اثرات میں عارضی کمی لائی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وقتی ریلیف ہے جبکہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے مزید پالیسی اقدامات زیر غور ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف نے بھی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق حکومت کو عوام کی مشکلات کا ادراک ہے، تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ بعض عناصر احتجاج کی آڑ میں بیرونی ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ادھر ہلاکتوں میں اضافے کے بعد عالمی سطح پر بھی تشویش بڑھنے لگی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال جاری رہا تو امریکا اس معاملے میں مداخلت پر غور کر سکتا ہے۔












