واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
اسرائیلی سیاستدان یائر لاپڈ نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے تہران کو خبردار کیا کہ “ایران کو وینزویلا میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔”
خیال رہے کہ ایران اور وینزویلا قریبی اتحادی رہے ہیں اور دونوں ممالک امریکی پابندیوں کے باوجود اربوں ڈالر کی تجارتی شراکت داری بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مادورو کی معزولی کے بعد ایران کے اتحادیوں کا دائرہ مزید سکڑنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر شام میں بشار الاسد کے زوال اور لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری کے بعد۔
ایرانی حکومت نے وینزویلا پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا اور اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
چند دن قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران پر نئے حملوں کی دھمکی دی تھی۔
اگرچہ واشنگٹن کے وینزویلا اور ایران کے ساتھ تنازعات کی نوعیت مختلف ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مادورو کے خلاف امریکی اقدام نے ایران کے ساتھ جنگ کے امکانات میں اضافہ کر دیا ہے۔












