
از: سہیل شہریار
صحافی صرف مرتے نہیں بلکہ مارے جاتے ہیں۔ فوجی گروپوں باقاعدہ اور نیم فوجی دونوں اور منظم جرائم کی وجہ سے قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ہلاک ہونے والے 67 میڈیا پروفیشنلز میں سے کم از کم 53 جنگ یا مجرمانہ نیٹ ورک کا شکار ہیں۔یہ ہیں وہ حقائق جوغیر جانبدار عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے 2025میں دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں بتائے ہیں۔
پچھلے 12 مہینوں میں مارے گئے صحافیوں میں سے تقریباً نصف43فیصد اسرائیلی مسلح افواج کے ہاتھوں غزہ میں جاں بحق کئے گئے۔ یوکرین میں روسی فوج کی جانب سے غیر ملکی اور یوکرینی صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح سوڈان بھی نیوز پروفیشنلز کے لیے ایک غیر معمولی طور پر مہلک جنگی زون کے طور پر ابھرا ہے۔ جبکہ میکسیکو میں، منظم جرائم کے گروہ 2025 میں صحافیوں کے قتل میں خطرناک حد تک اضافے کے ذمہ دار ہیں۔
یہ سال گزشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ مہلک رہا ہے ۔ اور میکسیکو صحافیوں کے لیے دنیا کا دوسرا سب سے خطرناک ملک ہے۔ جہاں سال بھر میں نو صحافی ہلاک ہوئے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ منفی رجحان پھیل گیا ہے کیونکہ لاطینی امریکہ میں دنیا کے 24 فیصد صحافیوں کا قتل ہوا ہے۔
سال 2025صحافیوں کے لئے اپنے ہی ملکوںمیں زیادہ خطرناک رہا ہے۔ کیونکہ اس سال صرف دو صحافی کسی دوسرے ملک میں مارے گئے۔ ان میںفرانسیسی فوٹو جرنلسٹ انتونی لالیکناور سلواڈور کے صحافی جیویئر ہرکولیس شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 503 صحافی زیر حراست ہیں۔ چین میں سب سے زیادہ121، روس میں 48 اور اسکے بعد میانمار میں47 صحافی قید و بند کی صعبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے ایک سال بعد ان کے دور حکومت میں گرفتار یا پکڑے گئے بہت سے نامہ نگاروں کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے، جس کی وجہ سے شام دنیا بھر میں لاپتہ ہونے والے صحافیوں کی ایک چوتھائی تعداد کے ساتھ سر فہرست ہے۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ڈائریکٹر جنرل تھی بوٹ بروٹن کا کہنا ہے کہ اس سال 67 صحافیوں کی موت ہوئی – حادثاتی طور پر نہیں۔ اور وہ خودکش حملے کا شکار نہیں تھے۔ انہیں قتل کیا گیا۔ ان کے کام کے لیے نشانہ بنایا گیا۔ میڈیا پر تنقید کرنا بالکل جائز ہے – تنقید کو تبدیلی کے لیے ایک محرک کے طور پر کام کرنا چاہیے جو کہ آزاد صحافت کی بقا کو یقینی بناتا ہے۔ لیکن عوامی صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اسے کبھی بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔






