واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی نئی قیادت کوبھی سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے امریکا کے ساتھ تعاون نہ کیا تو اسے “بہت بڑی قیمت” ادا کرنا پڑے گی۔
صدر ٹرمپ نے امریکی جریدے دی اٹلانٹک کو ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ اگر عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے “درست فیصلہ” نہ کیا تو وہ “مادورو سے بھی بڑی قیمت” ادا کریں گی۔
خیال رہے کہ امریکی حملے کے بعد اپنے پہلے بیان میں ڈیلسی روڈریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے واحد جائز صدر ہیں اور ملک اپنے قدرتی وسائل کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
ادھر وینزویلا کی فوج نے اعلان کیاہے کہ وہ مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر تسلیم کرتی ہے اور عوام سے معمول کی زندگی بحال کرنے کی اپیل کی۔
اگرچہ ابتدائی امریکی کارروائی کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سرکردہ رہنما چک شومر نے کہا کہ امریکی عوام حیرت اور خوف میں مبتلا ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا تھاکہ امریکا وینزویلا کو “چلائے گا”، جبکہ دی اٹلانٹک کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “وہاں تعمیرِ نو اور نظام کی تبدیلی، جو بھی نام دیں، موجودہ صورتحال سے بہتر ہے۔”
تاہم امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے وضاحت کی کہ واشنگٹن وینزویلا میں مکمل حکومت کی تبدیلی یا فوری انتخابات نہیں چاہتا۔ ان کے مطابق امریکا حکومت کے بجائے اقدامات کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔ امریکا منشیات فروشوں کے خلاف لڑ رہا ہے، وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وینزویلا کے تیل کی برآمدات روکنے کے لیے کیریبین میں امریکی بحری موجودگی برقرار رہے گی تاکہ “غیر معمولی دباؤ” قائم رکھا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا وینزویلا میں فیصلے خود کرے گا، خاص طور پر دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر تک رسائی کے لیے۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ زمینی فوجی تعیناتی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔












