غزہ : (پاک ترک نیوز) امریکا کی ثالثی میں اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کے ان علاقوں پر ایک بار پھر مہلک حملے شروع کر دیے ہیں ،جو اس کے براہِ راست فوجی کنٹرول میں نہیں ہیں۔
جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم3 فلسطینی شہید ہو گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق شہداء میں ایک 15 سالہ لڑکا، ایک ماہی گیر اور ایک تیسرا شخص شامل ہے جسے خان یونس کے مشرقی علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
محصور غزہ پٹی کے وسطی حصے میں بریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں اسرائیلی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ شمال میں واقع غزہ سٹی میں اسرائیلی افواج نے تباہ حال طفاح محلے میں گھروں اور شہری انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، جو پہلے ہی شدید تباہی کا شکار ہے۔
اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں مزید انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ہدف زیرِ زمین اور زمین کے اوپر موجود “دہشت گرد انفراسٹرکچر” ہے، جن میں بیت لاہیا کے علاقے میں مبینہ سرنگیں بھی شامل ہیں۔
اسی دوران اسرائیلی ڈرونز نے مشرقی غزہ سٹی میں متعدد گھروں پر دھماکا خیز مواد گرایا۔ غزہ سٹی کے شجاعیہ اور زیتون محلے بھی توپ خانے کی شدید گولہ باری کی زد میں رہے۔
یہ دونوں علاقے گزشتہ دو برس سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران بار بار نشانہ بن چکے ہیں۔غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 71 ہزار 386 فلسطینی شہید جبکہ 1 لاکھ 71 ہزار 264 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد گزشتہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں کم از کم 420 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد پر جمع ہونے والی بین الاقوامی انسانی امداد کی بڑی مقدار کو اب بھی روک رہی ہے، جبکہ اس کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں امداد کی کوئی کمی نہیںہے۔
اس کے برعکس اقوامِ متحدہ اور زمینی سطح پر کام کرنے والی تنظیمیں شدید انسانی بحران کی گواہی دے رہی ہیں۔
مزید برآں، اسرائیل نے کئی معروف بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو غزہ میں کام کرنے سے روکنے کے اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز اور نارویجن ریفیوجی کونسل شامل ہیں۔












