
از: سہیل شہریار
طالبان کی زیر قیادت افغان عبوری حکومت کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں پاک۔ افغان مزاکرات کے ناکامی کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے ۔جس کے منفی اثرات کابل کی تجارت و معیشت کو بد سے بدتر کی جانب لے جارہے ہیں ۔ مگر مودی کی گود میں بیٹھی طالبان قیادت کے کانوں پر جوؤں تک نہیں رینگ رہی۔
دونوں ہمسایہ ملکوں کی باہمی تجارت سے وابستہ صنعتکار،تاجر ،کسان اور مزدور سبھی کو روزی اور روزگار کے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے ۔ پاکستان اپنے جائز مطالبات کے تسلیم کئے جانے کے مؤقف پر قائم ہے ۔ جبکہ افغان طالبان پاکستان سے گفت و شنید اور باہمی مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے تاجروں اور کسانوں کو تجارت کے لئے پاکستان کے متبادل ایران اور وسط ایشیائی ملکوں حتیٰ کہ بھارت میں نئے شراکت دار تلاش کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔جسے پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ لاگتی اور باربرداری کے اخراجات کی وجہ سے بری طرح ناکامی کا سامنا ہے ۔
پاکستان نے 12 اکتوبر کو افغانستان کے ساتھ نصف درجن بڑی اور چھوٹی سرحدی گزرگاہوں کوبند کر دیا تھا۔اس کے نتیجے میں سرحد کی دونوں جانب طورخم اور چمن کی دو بڑی سرحدی گزرگاہوں پر تقریباً 8,000 ٹرک پھنس گئے ہیں۔ سرحد کی بندش سے پہلے اسلام آباد اور کابل کے درمیان دو طرفہ تجارت کاحجم2سے3ارب ڈالر سالانہ کے درمیان تھا۔
اب اڑھائی ماہ سے سرحدکی بندش کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے متعلقہ کاروباری افراد کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی جانب تو لوگوں کے پاس متبادل ذرائع موجود ہیں مگر سرحد پار صورتحال ابتر ہے جہاں کی بڑی برآمدات تازہ پھل اور خشک میوہ جات کا پاکستان کے علاوہ کوئی خریدار نہیں۔
یہی وجہ ہےکہ کابل کی کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدہ دو طرفہ تعلقات سے تجارت کوالگ کرنا تعلقات کی بحالی کی طرف ایک اچھی شروعات فراہم کر سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ طالبان عبوری حکومت کی جانب سے مستقبل کی ضمانتوں کے بدلے میں کاروباری تعلقات دوبارہ شروع ہونے چاہئیں۔ کیونکہ ہمارے تاجرمزید نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔
علاقائی سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ کابل کو وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کا مرکز بنانے جیسے اپنے تمام بڑے منصوبوں کے لیے اسلام آباد کی ضرورت ہے ۔اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ خشکی سے گھرے افغانستان کویہ پسند ہو یا نہ ہو، اسکی زیادہ تر بڑے اقتصادی مواقع کے لیے پاکستان کے ساتھ شراکت لازم و ملزوم ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ موجودہ افغان طالبان حکومت ملا عمر کی اپنی پیش روحکومت کے متضادعوامی حمایت اور اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔چنانچہ افغانستان کے موجودہ ا ندورنی حالات میں اگر پاکستان نے طالبان کی ہٹ دھرمی سے تنگ آ کران کے مخالفین کی مدد و حمایت شروع کر دی تو پانسا پلٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔












