اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت کے لیے خودکار طور پر نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ مقدمے سے بری ہونے والے امیدوار کے پس منظر اور اہلیت کا معروضی جائزہ لینا ضروری ہے۔چیف جسٹس امین الدین خان نے سرکاری بھرتیوں میں کردار اور سابقہ مقدمات کی جانچ پڑتال سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے فیصلے میں چھ اہم اصول وضع کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی بریت کو تسلیم کیا جائے گا، کردار کی منفی تصدیق قیاس آرائی کے بجائے مستند شواہد پر مبنی ہونی چاہیے اور بریت کے بعد سابقہ مقدمے کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے کے مطابق زیرِ سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی موجودہ قانونی حیثیت تک محدود ہوگا، امیدوار کو سنے بغیر اور معقول وجوہات کے بغیر بھرتی سے خارج نہیں کیا جائے گا، جبکہ تقرری کے فیصلے میرٹ، قانون اور آئینی ضمانتوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔وفاقی آئینی عدالت نے ڈرائیور کانسٹیبل کے عہدے سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت کے مطابق درخواست گزار عبداللطیف کو 2018 میں مقدمے سے بری کیا جاچکا تھا اور اس نے ڈرائیور کانسٹیبل کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی، اس کے باوجود محکمے نے بھرتی سے انکار کردیا۔عدالت نے قرار دیا کہ بریت کے باوجود بھرتی روکنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے منافی ہے۔ محض ایف آئی آر جرم کا ثبوت نہیں اور بریت کے بعد صرف شبہے کی بنیاد پر انتظامیہ امیدوار کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتی۔
تحریری فیصلے میں ڈی جی خان پولیس کے کلین کریکٹر سرٹیفکیٹ کو بھی اہم قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اسے ٹھوس وجوہات کے بغیر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے درخواست گزار کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن کے مطابق امیدواری بحال کرنے اور 30 روز کے اندر طبی معائنہ سمیت دیگر قانونی کارروائیاں مکمل کرکے تعیناتی کا حکم جاری کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد تاریخی سطح پر پہنچ گئی
فیصلے میں سورۃ الحجرات، سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ کی قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ کسی بھی شخص کے خلاف منفی اقدام محض شبہے کے بجائے تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔












