واشنگٹن (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ایک اہم سیاسی امتحان قریب آ پہنچا ہے۔ امریکا میں آج تین نومبر کو مڈٹرم انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتے ہیں بلکہ ٹرمپ حکومت کے آئندہ دو سال کا سیاسی مستقبل بھی طے کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ری پبلکنز اپنا اقتدار برقرار رکھ پائیں گے یا ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول واپس حاصل کر لیں گے؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔
امریکا میں مڈٹرم انتخابات ہر چار سال بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے درمیان، یعنی صدر کی چار سالہ مدت کے وسط میں منعقد ہوتے ہیں۔ اس بار پولنگ آج ہو رہی ہے ، ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 ریاستوں کے گورنروں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔
اس وقت ری پبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں برتری حاصل ہے، لیکن تازہ انتخابی جائزے ڈیموکریٹس کے لیے بہتر امکانات ظاہر کر رہے ہیں۔
سینیٹ میں اس وقت ری پبلکنز کو 53 اور ڈیموکریٹس و ان کے اتحادیوں کو 47 نشستوں کی حمایت حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔
سب سے اہم مقابلے الاسکا، آئیووا، کنساس، مین، مشی گن، اوہائیو اور ٹیکساس میں ہیں۔
– الاسکا میں ڈیموکریٹ میری پیلٹولا کا مقابلہ ری پبلکن ڈین سلیوان سے ہے۔
– آئیووا میں ری پبلکن ایشلے ہنسن اور ڈیموکریٹ جوش ٹورک آمنے سامنے ہیں۔
– کنساس میں ری پبلکن راجر مارشل کے مقابلے میں ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن ہیں۔
– مشی گن میں ڈیموکریٹ عبدالسلام السید اور ری پبلکن مائیک راجرز کے درمیان مقابلہ ہے۔
– اوہائیو میں سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ براؤن کا مقابلہ ری پبلکن جان ہسٹڈ سے ہے۔
– ٹیکساس میں ری پبلکن کین پیکسٹن اور ڈیموکریٹ جیمز ٹیلاریکو کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔اس کے علاوہ شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ رائے کوپر کو ری پبلکن مائیکل واٹلی کے مقابلے میں برتری حاصل بتائی جا رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے 28 اکتوبر کے انتخابی جائزے کے مطابق ان سات اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹس کو معمولی برتری حاصل ہے، تاہم بیشتر مقابلے کانٹے کے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے صرف تین نشستیں مزید درکار ہیں۔ اہم مقابلوں میں ایریزونا، کیلیفورنیا، کولوراڈو، آئیووا، مشی گن، نیویارک، اوہائیو، پنسلوانیا، ٹیکساس اور ورجینیا کے متعدد حلقے شامل ہیں۔
خصوصاً ایریزونا کا پہلا، کولوراڈو کا پانچواں، مشی گن کا ساتواں اور دسواں، نیویارک کا سترہواں، اوہائیو کا ساتواں، پنسلوانیا کا پہلا اور ٹیکساس کا پندرہواں حلقہ اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
غیر جماعتی ادارے کُک پولیٹیکل رپورٹ کے 23 اکتوبر کے جائزے میں ڈیموکریٹس کے 12 سے 22 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جبکہ ادارے کے مطابق ڈیموکریٹس 218 نشستوں پر برتری کی پوزیشن میں تھے۔
انتخابی جائزوں کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی واپسی کے امکانات خاصے روشن ہیں، جبکہ سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کو معمولی برتری حاصل ہے، لیکن یہاں مقابلہ زیادہ سخت ہے۔
نیٹ سلور کے 31 اکتوبر کے انتخابی ماڈل نے بھی ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان واپس حاصل کرنے کے لیے مضبوط امیدوار قرار دیا ہے، جبکہ سینیٹ میں بھی ان کی پوزیشن بہتر بتائی ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ کے لیے قانون سازی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
– ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو بجٹ، حکومتی اخراجات اور قانون سازی روکنے یا تبدیل کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔
– وہ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کی تحقیقات، سماعتوں اور حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنے کا سلسلہ تیز کر سکتے ہیں۔
– اگر سینیٹ بھی ڈیموکریٹس کے پاس چلی گئی تو اہم حکومتی تقرریوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی منظوری میں بھی ٹرمپ کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی بلند ترین عمارت کا نیا ریکارڈ، سعودی عرب کا جدہ ٹاور نصف بلندی کے قریب پہنچ گیا
– کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مخالف جماعت کی اکثریت سے ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے سیاسی سمجھوتے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
تاہم مڈٹرم انتخابات میں شکست کا مطلب یہ نہیں کہ ٹرمپ صدارت سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کی صدارتی مدت برقرار رہے گی، البتہ آخری دو سال کے دوران ان کی حکومتی اور سیاسی حکمت عملی پر کانگریس کی نگرانی بڑھ سکتی ہے۔












