تہران ( پاک تر ک نیوز) ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کی سات شرائط تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے، ایران کی یہ شرائط امریکا کے ساتھ طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے مختلف ہیں۔
محسن رضائی نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں، ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط کی منظوری کی صورت میں سفارت کاری کا راستہ کھلا رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے حکام کے ساتھ چار فریقی اجلاس ہوا، جس میں خطے کی سلامتی سے متعلق انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، ایران کو خطے میں سلامتی کے ہر انتظام کا حصہ ہونا چاہئے۔
محسن رضائی نے واضح کیا کہ چار فریقی اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے یا یمن کے تنازع پر کوئی بات نہیں ہوئی، جبکہ گفتگو کا بنیادی محور علاقائی سلامتی کے معاملات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ضرورت پڑی تو ایران کی جوہری تنصیبات پر 10 منٹ میں حملہ کر سکتے ہیں، ٹرمپ
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کی سات شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے معاملات آگے بڑھائے جاسکتے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ شرائط اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے الگ ہیں۔
محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا جواب نئے ہتھیاروں کے ذریعے دیا جائے گا اور جارح کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔












