واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا میں مڈٹرم انتخابات کا بڑا معرکہ چند گھنٹے کی دوری پر ہے ، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت اور حکومتی پالیسیوں کا بھی امتحان ہوگا۔ انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ری پبلکنز کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے میدان میں ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں واپسی کے خواہاں ہیں۔امریکی سیاسی نظام میں مڈٹرم انتخابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج صدر کی آئندہ دو سالہ حکومت کے لیے قانون سازی، بجٹ اور اہم تقرریوں کے راستے کا تعین کرتے ہیں۔ روایتی طور پر صدر کی جماعت کو مڈٹرم انتخابات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا پھر ایران پر حملہ،جذیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں دھماکے
حالیہ سروے بھی ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں امید افزا تصویر پیش کر رہے ہیں۔ رائٹرز اور اِپسوس کے سروے میں ڈیموکریٹس کو 46 فیصد جبکہ ری پبلکنز کو 38 فیصد حمایت حاصل تھی۔ تاہم سینیٹ میں مقابلہ زیادہ سخت قرار دیا جا رہا ہے۔قبل از وقت ووٹنگ میں بھی ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق انتخابات سے پہلے 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے جا چکے تھے، جو اس انتخابی مہم میں ووٹرز کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔انتخابات سے پہلے ہی وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی کی صورت میں اپنی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر اسٹیفن ملر، بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ اور وائٹ ہاؤس کے قانونی ماہرین کانگریس کی منظوری کے بغیر حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔اس حکمت عملی میں محصولات، امیگریشن، رہائشی اخراجات اور وفاقی اخراجات سے متعلق صدارتی اختیارات استعمال کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ عدالتی چیلنجز اور ممکنہ کانگریسی تحقیقات سے نمٹنے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی تحقیقات، سرکاری عہدیداروں کو طلب کرنے اور حکومتی اخراجات پر نگرانی کے وسیع اختیارات مل جائیں گے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ صدارتی ویٹو اور موجودہ قوانین کے تحت حاصل انتظامی اختیارات استعمال کر سکتے ہیں، تاہم ان کے اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔












